اسوہء انسانِ کامل — Page 645
اسوہ انسان کامل 645 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی questions about him occur to each of us that must always remain questions! But in Mohammedanism every thing is different' here, instead of the shadowy and the mysterious, we have his story۔We know as much of Mohammed as we do even of Luther and Milton۔The mythical, the legendary, the supernatural is almost wanting in the original Arab authorities, or at all events can easily be distinguished from what is historical۔Nobody here is the dupe of himself or of others; there is the full light of day upon all that that light can ever reach at all۔"The abysmal depths of personality" indeed are, and must always remain, beyond the reach of any line and plummet of ours۔But we know every thing of the external history of Mohammed his youth, his appearance, his relation, his habits; the first idea and the gradual growth, intermittent though it was, of his great revelation; while for his internal history, after his mission had been proclaimed, we have a book absolutely unique in its origin۔"(20) یہ صحیح ہے کہ تاریخ کی روشنی میں ہم مسیح کی زندگی کے کچھ واقعات دیکھ سکتے ہیں لیکن اُن تمیں سالوں سے کون پردہ اٹھا سکتا ہے جو انہوں نے (نبوت سے پہلے ) گزارے جو کچھ ہم جانتے ہیں ، اس نے اگر چہ دنیا کی معلومات میں کسی حد تک اضافہ کر دیا ہے۔اور آئندہ مزید انکشافات متوقع ہیں تا ہم ایک مثالی زندگی ، کون جانے ، کتنی قریب ہے کتنی دور! کتنی ممکن ہے اور کتنی نا ممکن ! ہم ابھی بہت کچھ نہیں جانتے۔ہم اُن کی ماں کے بارے میں، ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں، ان کے ابتدائی دوست احباب اور ان کے تعلقات باہم کے بارے میں اور اس سلسلہ میں بھلا کیا جانتے ہیں کہ مسند نبوت پر وہ بتدریج فائز ہوئے یا وحی پا کر میدم خدائی مشن کے حامل بن گئے؟ بہر حال کتنے ہی سوال ایسے ہیں جو ہم میں سے اکثر کے ذہنوں سے ٹکراتے ہیں مگر وہ بس سوالات ہیں جواب کے بغیر ! البتہ محمد (ﷺ) کے معاملہ میں صورت یکسر مختلف ہے۔یہاں ہمارے پاس اندھیروں کی بجائے تاریخ کی روشنی ہے۔ہم محمد (ﷺ) کے بارے میں اتنا ہی جانتے ہیں جتنا کہ لوتھر اور ملٹن کے بارے میں۔یہاں واقعات کا دامن، خیال محض ، قیاس تخمین و ظن ، ماورائے فطرت روایات اور فسانہ و فسوں سے آلودہ ہونے کے بجائے حقائق سے آراستہ ہے۔اور ہم بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ یہاں کوئی شخص نہ خود اپنے آپ کو دجل و