اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 638 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 638

اسوہ انسان کامل 638 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی کی طرف سے شروع کیا گیا جو مکہ میں 570ء میں پیدا ہوئے۔آپ نے انتہائی گوش نشینی کی زندگی گزاری۔آپ کے ساتھ رہنے والے آپ کو پسند کرتے اور آپ پر اعتماد کرتے تھے۔یقیناً آپ گالا مین، یعنی امانت دار مشہور تھے۔جس مذہب کا آپ نے پر چار کیا وہ آسان، سیدھا سادھا ہونے اور اپنے اندر جمہوریت اور مساوات رکھنے کی وجہ سے ہمسایہ ممالک میں موجود لوگوں کو بہت بھایا جو آمر بادشاہوں کے ظلم و بربریت اور ویسے ہی آمرانہ انداز رکھنے والے متکبر پادریوں کے کافی عرصہ سے ظلم سہ رہے تھے۔وہ پرانے نظام سے تنگ آچکے تھے اور ایک تبدیلی کیلئے بالکل تیار تھے۔اسلام نے ان کے سامنے تبدیلی کا ایک راستہ کھولا اور اس تبدیلی کو خوش آمدید کہا گیا۔کیونکہ اس نے انہیں کئی لحاظ سے پہلے سے بہتر کر دیا اور پرانی بد عنوانیوں کا قلع قمع کیا۔“ 11 - لارا ولیسیا ڈاکٹر وگلیری (1935ء) اطالوی مستشرقہ (جو پلیز یونیورسٹی میں عربی اور ہسٹری آف مسلم سولائزیشن کی پروفیسر تھیں) نے 1935ء میں اپنی اطالوی زبان (Italian) میں An Interpretation of" "Islam لکھی جس کا انگریزی ترجمہ فاضل اور مشہور ادیب ڈاکٹر آلڈ وکیلی نے کیا اور اردو جامہ بعنوان ” اسلام پر نظر جناب شیخ محمد احمد مظہر صاحب ایڈووکیٹ لائکپور نے پہنایا۔اس کتاب میں مصنفہ نے بانی اسلام کے پیدا کردہ انقلاب کی عظمت کو یوں سلام پیش کیا۔تہذیب و تمدن کی شاہراہوں سے دُور بیابان میں ایک جاہل قوم بہتی تھی۔جس کے اندر خالص اور شفاف پانی کا ایک چشمہ نمودار ہوا جس کا نام اسلام ہے۔اسلام آیا اور اس نے ان خون خرابوں کو مٹا کر دلوں کے اندر اپنی تاثیر پھونک دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب نے اخلاق اور مقاصد میں ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔باہمی اخوت کے جذبات موجزن ہونے لگے۔اسلامی چشمہ ایک ناقابل مزاحمت دریا بن گیا۔اور اس کے خالص اور پر زور دھارے نے زبر دست سلطنتوں کوگھیر لیا جوئی یا پرانی تہذیب کی حامل تھیں۔یہ وہ شور تھا جس نے سوتوں کو جگاد یا یہ وہ روح تھی جس نے پراگندہ اقوام کو بالآخر وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔تاریخ عالم میں ایسا انقلاب کبھی نہ آیا تھا جس سرعت سے اسلامی فتوحات عمل میں آئیں اور جتنی جلدی چند مخلص اشخاص کے مذہب نے لاکھوں انسانوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔انسانی دماغ کے لئے یہ بات معمہ ہے کہ آخر وہ کونسی مخفی طاقت تھی جس کی بدولت چند آزمودہ کارلوگوں نے ان قوموں کو مغلوب کر لیا۔جو تہذیب دولت تجربے اور فنون جنگ میں ان سے بدرجہا افضل تھیں۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کے دلوں میں اپنے نصب العین کے حصول کے لئے ایک ایسا حیرت انگیز ولولہ اور مستقل تڑپ پیدا کر دی کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہزار سال بعد تک بھی کوئی دوسرا مذہب اس ولولے اور تڑپ کا ہمسر نہ ہوگا۔“ فی الحقیقت اس مصلح کا کام نہایت اعلیٰ اور شاندار تھا۔ہاں! یہی وہ مصلح تھا جس نے ایک بت پرست اور وحشی قوم کو کیچڑ سے نکال کر ایک متحد اور موحد جماعت بنا دیا۔اور ان میں اعلیٰ اخلاق کی روح پھونک دی۔(14) لا راولیسیا ڈاکٹر ویگیری مزید لکھتی ہیں:۔