اسوہء انسانِ کامل — Page 622
اسوہ انسان کامل 622 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی ط إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - (سورۃ الاحزاب:57) کہ اللہ یقینا اس نبی پر اپنی رحمت نازل کر رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی یقینا اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔اے مومنو! تم بھی اس پر درود بھیجتے اور ان کے لئے دعائیں کرتے رہا کرو اور خوب جوش و خروش سے ان کے لئے سلامتی مانگتے رہا کرو۔کہ آپ ہی خدائی فرمان لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کا مصداق ہیں یعنی گر تو نہ ہوتا تو میں کا ئنات کو پیدا نہ کرتا۔ی تھی حضرت آمنہ کے مبارک خواب کی تعبیر کہ نور عالم ان کے وجود سے ظاہر ہوا اور پھر چہار سو پھیل گیا اور أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا کا نظارہ دنیا نے دیکھا۔حضرت آمنہ نے آپ کا نام الہی اشارہ کے مطابق ” محمد “ رکھا۔اس نام پر عربوں کا تعجب دیکھ کر عبدالمطلب نے بیچ ہی تو کہا ”بلاشبہ میرا یہ بیٹا عظیم ہوگا۔اس کی بہت تعریف ہوگی۔“ اور پھر ایسا ہی ہوا ملائک کو ارشاد ہوا کہ آسمانوں کو اس عظیم وجود کی تعریف سے بھر دو اور زمین میں اس کی مقبولیت پھیلا دو، بندگان خدا کو حکم ہوا کہ اس ہستی پر سلام و درود بھیجو اور بارگاہ رب العزت سے یہ فیصلہ صادر ہوا کہ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (الانشراح : 5) کہ اے محمد عربی ہم نے تیرے ذکر کو بہت بلند کیا ہے۔گویا تو عظمت و رفعت کا ایک مینار ہے اور یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ پر آج تک جس قدر سلام و درود بھیجا گیا ساری دنیا 66 کے انسانوں کے لئے بھی اتنی دعائیں نہ کی گئی نہ ہوں گی۔جس قدر تعریف اور ذکر آپ کا ہوا اس کی نظیر لا حاصل ہے۔قرآن شریف میں آنحضرت کے مقام محمود پر فائز کئے جانے کا بھی ذکر ہے۔جو ایسی عظیم الشان تعریف کا مقام ہے جس پر پہلے اور پچھلے سب رشک کریں گے اور بروز قیامت اس کا اظہار یوں ہوگا کہ رسول کریم کو ایک سبز پوشاک پہنائی جائے گی۔آپ خدا کی حمد کے ترانے گائیں گے پھر آپ کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی اور آپ اپنی امت کی شفاعت کریں گے۔(احمد) ظاہر ہے اس مقام محمود کا تعلق صرف اخروی زندگی سے نہیں بلکہ اس دنیا سے بھی ہے کہ آپ سے بڑھ کر تعریف کا مقام کسی انسان کو حاصل نہیں ہوا۔حضرت عائشہ کا بیان ہے رسول اللہ نے فرمایا کہ ” مجھے جبریل نے کہا میں نے زمین کے مشرق اور مغرب کو پلٹ کر دیکھا تو میں نے محمد سے افضل کوئی شخص نہیں پایا۔(بیہقی )2 حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا :۔میں قیامت کے دن تمام بنی آدم کا سردار ہوں گا مگر اس پر مجھے کوئی فخر نہیں اور کوئی بھی نبی آدم“ اور اس کے سوا ایسا نہیں۔مگر وہ اس دن میرے جھنڈے کے نیچے ہوگا۔نیز فرمایا ” قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور شفاعت کرنے والا ہونگا۔مگر بغیر کسی فخر کے۔(ترمذی) 3 محمد ہی نام اور محمد ہی کام عَلَيْكَ الصَّلَوةُ عَلَيْكَ السَّلَام