اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 32
ہے ”ملزم کر کے ان کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا“۔تو یہ دلائل ہیں جن سے کاٹنا ہے تا کہ ان کے جو جھوٹے دعوے اور وجود ہیں ان کو ختم کر سکے۔” اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہر ایک کافر جو دین محمدی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے۔جو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر مارا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آکر دلیلوں سے اس کو ماریں گے۔” غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عا جز پر بخوبی کھولی گئی ہیں۔اب چاہے کوئی اس کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن آخر کچھ مدت اور انتظار کر کے اور اپنی بے بنیاد امیدوں سے پاس کلی کی حالت میں ہو کر ایک دن سب لوگ اس طرف رجوع کریں گے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحه 141 تا 143۔حاشیه) پس آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائیوں کو چیلنج کیا ہے۔عیسائیت جس تیزی سے پھیل رہی تھی یہ آپ ہی ہیں جنہوں نے اس کو روکا ہے۔ہندوستان میں اس زمانے میں ہزاروں لاکھوں مسلمان عیسائی ہو رہے تھے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جنہوں نے اس حملے کو نہ صرف روکا بلکہ اسلام کی ساکھ دوبارہ قائم کی۔پھر افریقہ میں جماعت احمدیہ نے عیسائیت کی یلغار کو روکا۔اسلام کی خوبصورت تصویر دکھائی، ہزاروں لاکھوں عیسائیوں کو احمدی مسلمان بنایا۔تو یہ تھے مسیح کے کارنامے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دکھائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک آپ کی دی ہوئی تعلیم اور دلائل کے ساتھ جماعت احمد یہ دلوں کو جیتتے ہوئے منزلیں طے کر رہی ہے اور انشاء اللہ کرتی چلی جائے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ایک دن یہ لوگ مایوس ہوکر رجوع کریں گے۔تو یہ ہے وضاحت اس بات کی کہ کس طرح ان لوگوں کے دجل اور فریب کو ختم کرنا 32