اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 25
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ - أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّحِيمِ - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - اَلرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ - اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں، اس سے پہلے جو دو خطبے دیئے تھے انہی کے مضمون کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا تھا۔لیکن پھر جو نا زیبا اور بیہودہ حرکت مغرب کے بعض اخباروں نے کی اور جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں غم وغصہ کی ایک لہر دوڑی اور اس پر جو رد عمل ظاہر ہوا اس بارے میں میں نے کچھ کہنا ضروری سمجھا تا کہ احمدیوں کو بھی پتہ لگے کہ ایسے حالات میں ہمارے رویے کیسے ہونے چاہئیں۔ویسے تو اللہ کے فضل سے پتہ ہے لیکن یاددہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔اور دنیا کو بھی پتہ چلے کہ ایک مسلمان کا صحیح رد عمل ایسے حالات میں کیا ہوتا ہے۔دوسروں کے جذبات سے کھیلنانہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی آزادی ضمیر جہاں ہم دنیا کو سمجھاتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کی مقدس ہستیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کا نازیبا اظہار خیال، کسی بھی طرح کی آزادی کے زمرے میں نہیں آتا۔تم جو جمہوریت اور آزادی ضمیر کے چیمپین بن کر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہو یہ نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ ہی آزادی ضمیر ہے۔ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور کچھ ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں۔جس طرح ہر پیشے میں ضابطہ اخلاق ہیں، اسی طرح صحافت کے لئے بھی ضابطہ اخلاق ہے اور اسی طرح کوئی بھی طرز حکومت ہو اس کے بھی قانون و قاعدے ہیں۔25