اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 27
: اُردو کی کتاب سوم : اور ساتھ ساتھ زار زار روتی بھی جاتی تھیں اور اللہ سے دعا بھی کرتی جاتی تھیں۔مگر نہ تو کوئی پانی کا پتہ ملتا تھا اور نہ ہی کوئی آدمی نظر آتا تھا۔آخر جب ہاجرہ کا کرب انتہا کو پہنچ گیا تو ساتویں چکر کے بعد ہاجرہ کو ایک غیبی آواز سنائی دی کہ: ”اے ہاجرہ 66 اللہ نے تیری اور تیرے بچے کی آواز سُن لی ہے یہ آواز سن کر وہ واپس آئیں تو جس جگہ بچہ شدت پیاس کی وجہ سے بے تابی کی حالت میں تڑپ رہا تھا وہاں ایک خدائی فرشتہ کو کھڑا پایا جو اپنے پاؤں کی ایڑی اس طرح زمین پر مار رہا تھا کہ گویا کوئی چیز کھود کر نکال رہا ہے۔حضرت ہاجرہ آگے بڑھیں تو جس جگہ وہ ایڑی ماررہا تھا وہاں انہوں نے ایک چشمہ پایا جس میں سے پانی پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہا تھا۔ہاجرہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔اُس نے فورا اپنے بچے کو پانی دیا اور اس خوف سے کہ پانی ضائع نہ ہو جاوے اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اسے ایک حوض کی صورت میں بنا دیا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ : ” خدا ہاجرہ پر رحم کرے اگر وہ اس پانی کو نہ روکتی تو وہ ایک بہنے والا چشمہ ہو جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ حج میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ہاجرہ ہی کی مقدس یادگار ہے۔(بحوالہ سیرت خاتم التین صفر ۲۶) ۲۷