اُردو کی کتب (کتابِ دوم) — Page 37
سولہواں سبق اردو کی کتاب دوم میرے سر میں دماغ نہیں پرانے زمانے میں معمولی سے اختلاف کی وجہ سے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ کر دیتا تھا۔اور اُس زمانے میں لڑائیاں اور جنگیں تیروں اور تلواروں سے ہوتی تھیں۔ایک دفعہ ایک جُلا ہا اپنے قبیلے والوں سے کہنے لگا کہ مجھے بھی جنگ کے لئے لے چلو۔انہوں نے سمجھایا کہ آپ کو جنگ لڑنے کی مہارت نہیں ہے۔اس لئے آپ نہ جائیں۔لیکن جلا ہا نہ مانا۔آخر اس کے اصرار پر قبیلے والےاُسے جنگ میں لے گئے۔جو نہی جنگ شروع ہوئی تو دشمن کی طرف سے ایک تیر آیا جو اُس کے سر میں چبھ گیا۔وہ جلدی سے طبیب کے پاس گیا، طبیب نے اُسے کہا اگر میں نے یہ تیر کھینچ کر باہر نکالا تو مجھے ڈر ہے کہ دماغ کا کچھ حصہ باہر نکل آئے گا جو خطرناک ہوسکتا ہے۔جُلا ہے نے کہا ، اے طبیب آپ بغیر کسی خوف کے تیر نکالیں۔دماغ نہیں نکلے گا کیونکہ اگر میرے سر میں دماغ ہوتا تو میں یہاں کیوں آتا ؟ ۳۷ //////////////