حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 3
حضرت اُم مظفر 3 کہ قرآن شریف با ترجمہ پڑھ لے، نماز اور روزہ اور زکوۃ اور حج کے مسائل سے باخبر ہو نیز با آسانی محط لکھ سکے اور پڑھ سکے اور لڑکی کے نام سے مطلع فرما دیں اور اس خط کے جواب سے اطلاع بخشیں۔“ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ:۔چونکہ دونوں کی عمریں چھوٹی ہیں تین 66 برس تک شادی میں تو قف ہو گا۔“ اس کے بعد 10 مئی 1906ء کو حضرت میر ناصر نواب صاحب، حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد اور دیگر احباب قادیان سے پشاور پہنچے اور دلہن سرور سلطان صاحبہ کے ساتھ 16 مئی کو واپس قادیان آگئے۔اس طرح ایک مبارک خاتون حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بہو اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی بیوی بن کر الدائر میں داخل ہوئیں۔پشاور اور قادیان کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق تھا مگر یہ سارے فرق اس 'الدار‘ میں ملنے والی محبتوں اور شفقتوں نے مٹا دیے، حضرت سید ہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ جیسی شفیق ماں نے آپ کو سینے سے لگا لیا، نئے ماحول سے آشنا کرنے کے لئے پیار سے سب باتیں سمجھا تیں ، بلکہ کئی دفعہ اپنے ساتھ بھی سکلا لیتیں ، تا کہ ماں کی یاد بے چین نہ کرے۔کتنا خوش نصیب گھرانہ تھا جہاں محبتوں کا راج تھا!