حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ

by Other Authors

Page 14 of 25

حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 14

حضرت ام عمارة 14 حضرت حبیب نے مسیلمہ کی بات نہایت حقارت سے ٹھکرا دی۔مسلیمہ نے غضبناک ہوکر اپنی تلوار کے وار سے حضرت حبیب کا ایک ہاتھ شہید کر ڈالا اور ان سے کہا ”اب میری بات مانو گے یا نہیں!“ حضرت حبیب نے جواب دیا ”ہرگز نہیں !“ مسیلمہ نے اب اُن کا دوسرا ہاتھ بھی شہید کر ڈالا اور بولا ” اب بھی میری رسالت تسلیم کر لو تو تمہاری جان بچ سکتی ہے۔“ اس عاشق رسول اللہ نے ام عمارہ جیسی بہادر ماں کا دودھ پیا تھا بولے:۔66 ہر گز نہیں ہرگز نہیں! “ ”اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدٌ الرَّسُولُ الله“ اب مسیلمہ غصہ سے دیوانہ ہو گیا۔اور اُس نے ان کا ایک ایک بند کاٹ کر اپنی نبوت کے ماننے پر اصرار کیا۔لیکن اس مرد حق کے پائے ثبات راہ حق سے ذرا بھی نہ ڈگمگائے اور محمد اللہ اللہ کے بچے رسول ہیں پکارتا ہوا اپنے مولائے حقیقی سے جا ملا۔حضرت ام عمارہ نے اپنے مجاہد فرزند کی مظلومانہ شہادت کی خبر سنی تو اپنے بیٹے کی ثابت قدمی اور راہ حق میں جان قربان کرنے پر خدا کا شکر بجالائیں۔حضرت حبیب کیوں نہ ثابت قدم رہتے۔آخر انہوں نے ام عمارہ جیسی بہادر، بے خوف اور دین اسلام پر مر مٹنے والی عورت کی گود میں