تحفہٴ بغداد — Page 45
تحفه بغداد ۴۵ اردو تر جمه الله۔ألا إن روح الله قريب۔الا نومید مت ہو۔خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے۔(۲۰) إن نصر الله قریب۔یأتیک من خبر دار ہو کہ خدا کی مددقریب ہے۔وہ مدد ہر ایک دور كلّ فَجٍّ عميق۔ینصرک الله مِن کی راہ سے تجھے پہنچے گی۔خدا اپنی طرف سے تیری مدد عنده ينصرک رجال نوحی کرے گا۔تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں إليهم من السماء۔لا مبدل میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔خدا کی باتیں لكلمات الله و إنك اليوم ٹل نہیں سکتیں۔اور تو ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ لدينا مكين أمين۔وقالوا ہے اور امین ہے۔اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ إن هذا إلا اختلاق۔قُل كلمات تو اپنی طرف سے بنائے گئے ہیں ان کو کہہ الله ثم ذَرُهم في خوضهم کہ وہ خدا ہے کہ جس نے یہ کلمات نازل کئے۔پھر بقية الحاشية إذا مِتَّ عن الخلق بقیہ حاشیہ۔لئے واجب ہے۔نیز آپ فرماتے قیل لک: رحمک الله و أمَاتَک ہیں۔جب تو دنیا والوں سے تبتل اختیار کر لے گا تو عن إرادتك و مُناک و إذا مِتْ تجھے کہا جائے گا کہ اللہ تجھ پر رحم فرمائے اور تجھ سے عن الإرادة ومناك قبل لک: تیرے ارادے اور تیری خواہشات کو مار دے اور جب رحمك الله و أحْيَاك فكنت من تو اپنے ارادے اور خواہش سے منقطع ہو جائے گا تو المرحومين۔فحينئذ تحيى حياة لا تجھے کہا جائے گا کہ اللہ تجھ پر رحم فرمائے اور تجھے موت بعدها وتُغنى غناءً لا فَقَرَ زندگی بخشے۔اس طرح تو مرحوم لوگوں میں سے ہو بعده وتعطى عطاء لا منع بعده جائے گا۔تب مجھے وہ زندگی ملے گی جس کے بعد کوئی وتراح براحة لا شقاء بعدها وتنعم موت نہیں۔اور تجھے ایسی دولت عطا ہو گی جس کے بنعيم لا بؤس بعده وتُعلم علما لا بعد کوئی فقر نہیں۔اور تجھے وہ عطا ملے گی جس کے بعد جهل بعده وتؤمن أمنا لا تخاف کوئی محرومی نہیں اور ایسی راحت ملے گی جس کے بعد بعده وتسعد فلا تشقى وتُعَزّ فلا کوئی دکھ نہیں اور ایسی نعمت عطا کی جائے گی جس کے ۴۹