تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 9

تحفه بغداد ۹ اردو تر جمه وبركاته۔لا يخفى أنه قد کی کتاب موسومہ آئینہ کمالات اسلام کا غور سے اطلعت علی کتابکم المسمى مطالعہ کیا ہے اور جو کچھ اس میں تحریر کیا گیا ہے بمرآة كمالات الإسلام و علمت اس کا مجھے علم ہوا ، نیز میں نے اس کے معانی و بما فيه وأحطت فهما بمعانيه مفاہیم اور اس کے نکات و اصول کا اچھی طرح و فحاويــه ونـكــاتــه ومبانيه سے احاطہ کر لیا جواب دیدنی پر ہوتا ہے شنیدنی پر والجواب ما نری لا ما تسمع نہیں اور اگر تم نے اس کتاب کے مطالعہ کرنے ولو لم تقسمون على من اطلع والے شخص کو یہ قسم نہ دی ہوتی کہ وہ اس کتاب کی على ذلك الكتاب بأن يردّ ہر غلطی کی تردید اور اس کے ہر لفظ کی تشریح خطأه ويوضح لفظه لما صرفنا کرے تو ہم عنانِ قلم کا رُخ اس (کتاب) کی عنان القلم إلى ردّه۔وقد جرت تردید کی جانب نہ پھیرتے۔لیکن زمانہ قدیم و ۵ سنة أهل العلم من قديم الزمان جدید سے اہلِ علم کا یہی طریق رہا ہے کہ وہ وحادثه في الرد على الباطل (ہمیشہ) باطل کی تردید کرتے اور جاہل کی وبالتزييف على العاطل۔ولعل جہالت کو ظاہر کرتے ہیں۔غالباً آپ کو اس وردكم الاشتهار في هذا الباب بارے میں ہمارا اشتہار مل چکا ہو گا۔پس آپ فلا تكونوا بالوجل وارفعوا خوفزدہ نہ ہوں اور خجالت کا نقاب اپنے عنكم نقاب الخجل۔فلعل أن لا (چہرے) سے اٹھا دو۔اپنے وطن کو واپسی کا سفر كتابنا لقرب سفرنا قریب ہونے کی وجہ سے شاید ہماری کتاب طبع إلى الوطن لكن أرجو أن نہ ہو سکے۔لیکن مجھے امید ہے کہ آپ اپنی کتاب تتحفوني بنسخة من مرآتكم فإن "آئینہ کمالات اسلام کا ایک نسخہ مجھے تحفتاً النسخة التي هي عندى عارية عنایت کریں گے۔چونکہ جو نسخہ میرے پاس ہے ۱۳