توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 92 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 92

توہین رسالت کی سزا 92 } قتل نہیں ہے وَقَالَ ) وَلا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُواْ وَمَن يَرْتَدِدُ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأُوْلَبِكَ أَصْحَابُ النَّارِهُمْ فِيْهَا خَالِدُونَ) ترجمہ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (بھلا کیسے اللہ ایسی قوم کو ہدایت دے گا جو اپنے ایمان لانے کے بعد کا فر ہو گئے ہوں اور وہ گواہی دے چکے ہوں کہ یہ رسول حق ہے، اور ان کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے ہوں۔اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی جزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی۔وہ اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔ان سے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ وہ کوئی مہلت دیئے جائیں گے۔سوائے ان کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تو یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔یقینا وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے گئے ، ان کی تو بہ ہر گز قبول نہ کی جائے گی اور یہی وہ لوگ ہیں جو گمراہ ہیں۔) (ال عمران 7 8 تا 91) اور فرمایا: (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم نے ان لوگوں میں جنہیں کتاب دی گئی، کسی گروہ کی اطاعت کی تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد ایک دفعہ پھر کافر بنا دیں گے۔)(ال عمران:101) اور فرمایا: (یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے ، اللہ ایسا نہیں کہ انہیں معاف کر دے اور انہیں راستہ کی ہدایت دے۔) ( النساء:138) ان آیات میں کسی جگہ بھی انہیں قتل کرنے کا حکم نہیں ہے۔اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو اس کے بار بار ایمان لانے اور کفر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔