تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 82
خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم پھر ان کے ذریعہ کوئی شخص ہدایت پا جاتا ہے، کوئی یہاں، کوئی وہاں ، ایسے شخص سے ذرا دریافت تو کیجئے اور اس کی خوشی اور راحت کا مشاہدہ تو کیجئے۔ایک دفعہ آپ مبلغ بن جائیں، پھر دیکھئے آپ کس طرح اس نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں۔اور پھر بڑے سے بڑا دباؤ بھی آپ کو تبلیغ سے ہر گز نہیں روک سکے گا۔ایسی حالت میں آپ کو کسی یاد دہانی کروانے والے کی ضرورت نہیں ہو گی۔بلکہ آپ خود دوسروں کو نصیحت کرنے لگ جائیں گے کہ آؤ اور ہمارے ساتھ تبلیغ کے جہاد میں شامل ہو جاؤ۔تبلیغ کا عمل اپنے اندر مسلسل پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک منظم جدوجہد کے ساتھ آپ کچھ افراد کو کامیاب طور پر مبلغ بنا دیتے ہیں تو پھر وہ آپ پر کوئی بوجھ نہیں رہیں گے۔تبلیغ کی اپنی لذت ہی انہیں اس کام میں مصروف رکھے گی۔اور پھر آپ اپنی توجہ مزید لوگوں کی طرف کر سکیں گے۔یہی وہ بات ہے، جو میں آخر میں کہنی چاہتا ہوں اور تبلیغ کے کام کو منظم کرنے کے لئے یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے۔عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی مجلس خدام الاحمدیہ مجلس انصار اللہ یا کوئی اور جماعتی تنظیم کسی کام کو منظم کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو بجائے اس کے کہ پہلے چند افراد کا انتخاب کر کے انہیں تربیت دی جائے ، ساری جماعت کو بیک وقت تربیت دینا شروع کر دیا جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً اگر بیک وقت تمام احمدیوں کو مبلغ بنے کی تلقین کریں گے تو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔کیونکہ عمومی طور پر کس کو تبلیغ کرنا یا مبلغ بننے کی تلقین کرنا کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔جب تک چند راد کو منتخب کر کے باقاعدہ طور پر ان پر پوری توجہ مبذول نہ کی جائے۔اصل بات یہ ہے کہ نصیحت دو طور پر کرنی چاہیے۔ایک عموم نصیحت، جو سب کو کی جائے۔جیسے فوج میں دور ماروالی بمباری بھی بہت ضروری ہوتی ہے لیکن فتح حاصل کرنے کے لئے سپاہیوں کی مدد سے مخصوص علاقہ پر قبضہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔یہ ایک نہایت اہم اصول ہے ، جس پر عمل کر کے میں نے اپنے جماعتی فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ بہت فائدہ اٹھایا ہے۔بے شک آپ تمام افراد جماعت کو عمومی تلقین کریں کہ تبلیغ کا کام بہت اہم ہے۔لیکن آپ خصوصی توجہ صرف اتنے ہی لوگوں پر دیں، جن کو آپ واقعی داعی الی اللہ بنا سکتے ہیں۔یہ دونوں کام بیک وقت ہونے چاہئیں۔نہ یہ کہ ایک کام کو دوسرے کی خاطر قربان کر دیا جائے۔لیکن اگر عمومی طور پر ساری جماعت کو بار باران کے فرائض بتا کر یہ سوچنے لگیں کہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پھر اس سے غافل ہو جائیں تو میں سب کو یہی بتایا کرتا ہوں کہ اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔جماعتی تنظیم کے کاموں میں جب بھی مجھے نا کامی کا مشاہدہ کرنا پڑا، اس کا واحد 82