تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 804
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم ایسی ہے کہ ہمیشہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔بہت ہی غریب لوگوں نے ، جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آتی تھی ، اپنے پیٹ کاٹ کر ، اپنے بیوی بچوں کی قربانی دے کر ان تحریکات میں حصہ لیا۔اور جب آپ دیکھیں کہ انہوں نے کیا دیا تو بظاہر وہ ایک بہت ہی معمولی رقم نظر آتی ہے۔جو کہ ایک غریب کی قربانی اس کی تو فیق کے مناسبت سے ہوا کرتی ہے۔عورتوں نے بھی حصہ لیا، بچوں نے بھی حصہ لیا۔ایک بہت ہی لمبی داستان ہے، جو دردناک بھی ہے اور قابل فخر بھی۔کیونکہ قربانی کی تاریخ جتنی زیادہ دردناک ہو، اتنی زیادہ قابل فخر ہوا کرتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ لوگ ایسے ہیں، جن کو دفتر اول کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ہمیشہ تاریخ میں ہر دوسرے دفتر پر ان کو ایک فوقیت رہے گی اور ایک سبقت رہے گی۔دوسرا دفتر دس سال کے بعد قائم کیا گیا اور حضرت مصلح موعودؓ نے اس غرض سے قائم کیا کہ پہلے لوگ اس عرصے میں ایک نئی نسل پیدا کر چکے ہیں اور یہ نئی نسل اور اس پہلی نسلوں سے بھی کچھ، جوان ہو کر اس قابل ہوئے کہ انہوں نے کمانا شروع کر دیا ہو گا تو پہلوؤں کو بھی الگ امتیاز دینے کی خاطر بھی اور نئے نوجوانوں کو دوبارہ موقع دینے کی خاطر ایک نئے دفتر کا آغاز کیا گیا، جس کو آج 45 واں سال گزر رہا ہے۔پھر آج سے 23 سال قبل حضرت خلیفة المسیح الثالث نے تیسرے دفتر کا آغاز کیا، جس کو آج 23 سال گزر چکے ہیں۔اور وہ نسلیں، جو دوسرے دفتر سے تیسرے دفتر تک یعنی تقریباً 20 سال کے عرصے میں بڑی ہوئی تھیں، ان کو موقع ملا کہ وہ بھی جہاں تک ممکن ہو ، دین کی خاطر قربانی کے مظاہرے کریں۔اور سب سے آخر پر دو سال قبل اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی کہ دفتر چہارم کا آغاز کروں۔گویا 21 سال کے بعد۔اس پہلو سے اس وقت چار دفاتر ہیں، جن کا تعلق ان متعلقہ عرصے میں بڑے ہونے والوں اور نئے شامل ہونے والوں کے ساتھ ہے، جو سنگ ہائے میل کے درمیان پیدا ہوئے یا بڑے ہوئے۔اس پہلو سے جب میں کہتا ہوں کہ چاروں دفتر خدا تعالٰی کے فضل سے رو بہ ترقی ہیں تو صرف ایک فرق ہے، جس کو وضاحت سے بیان کرنا ضروری ہے۔دفتر اول کے متعلق یہ کہنا تو درست نہیں ہو سکتا کہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے، قربانی کرنے والوں میں۔یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ 1934ء میں جو نسل موجود تھی اور ان میں سے 5000 ہزار قربانی کرنے والے آگے آئے تھے ، ان میں ایک بڑی تعداد صحابہ کی تھی ، بڑی عمر کے بزرگوں کی تھی اور ایک تعداد بچوں کی بھی تھی۔وہ تمام بزرگ صحابہ گزر چکے ہیں، غیر صحابہ تابعین، جو پہلے درجے کے تابعین تھے، جنہوں نے صحابہ سے تربیت پائی، ان میں سے بھی اکثر فوت ہو 804