تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 738 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 738

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم مخطبه جمعه فرموده 28 اگست 1987ء ہوتا ہے اور جرمنی میں بہت حد تک ہوتا ہے، وہاں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، زیادہ سے زیادہ دس فیصد داعی الی اللہ بنے ہوں گے، اس سے زیادہ نہیں۔مگر جو کرتے ہیں، وہ ایسے ایسے لوگ ہیں، جن کو جرمن زبان یا ٹرکش زبان تو کیا اردو بھی نہیں ٹھیک آتی۔ایک خط میں اردو کے ساتھ دس پندرہ پنجابی کے لفظ ملا کے لکھتے ہیں۔اور حال یہ ہے کہ اللہ ان کو پھل عطا فرمارہا ہے۔ان کی تبلیغ کو پھل لگ رہے ہیں۔بعض ایسے آدمی ، جن کو کسی چیز کا بھی زیادہ علم نہیں، عربوں کو تبلیغ کر کے ، ان کو کامیابی کے ساتھ تبلیغ کر کے ان کو احمدی بنا چکے ہیں۔بعض ٹرکس (Turks) کو احمدی بنا چکے ہیں۔ابھی جب میں جرمنی میں ایک دن کے لئے ٹھہرا تھا، ہمبرگ میں، وہاں اسی طرح ایک احمدی دوست تھے۔حالانکہ ان کو ٹرکی زبان نہیں آتی ، ایک ٹرک (Turk) کو لے کر آئے ہوئے تھے ، جو اپنی مسجد کا عالم تھا اور بڑا با اثر انسان تھا، اس کو لے کر آئے۔اور پتا یہی چلا کہ وہ ٹرکی زبان کی کیسٹس کے ذریعے کچھ اشاروں سے کچھ اپنے محبت کے اظہار کے ذریعے اس سے تعلق قائم کر چکے تھے۔اور وہ آیا اور اس نے ملاقات کے دوران بار بار یہ اظہار کیا کہ اب میں باہر نہیں رہوں گا، میں بیعت کر کے سلسلے میں داخل ہوں گا اور نہایت ہی محبت سے اس کا چہرہ جو تھا تمتما رہا تھا۔تو ایک عام آدمی ، جس کو ایک زبان ہی نہیں آتی ، اس کو زیادہ دینی علم بھی نہیں ہے، اس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرما دی۔اس لئے کہ اس کا جذبہ خلوص سچا تھا، اس لئے کہ اس کے دل کی بے قرار تمنا تھی ، اس لئے کہ وہ دعا کرتا تھا اور پھر ایک خوبی جو ہر داعی الی اللہ میں ہونی ضروری ہے، وہ اس میں موجود تھی کہ زبان کا میٹھا تھا۔علم سارا بیکار ہو جاتا ہے، اگر ایک انسان مشتعل مزاج ہو۔اگر مغلوب الغضب ہو تو دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں رہتا۔خصوصا اس وقت، جب غیر سے مقابلہ ہو۔اس وقت تو بہت ہی زیادہ مکمل ہونا چاہئے۔اپنے جذبات پر کنٹرول اور حوصلے سے اس کی دشمنی کی بات کو سنا اور پھر محبت اور پیار سے اس کو سمجھانا اور جواب دینا، یہ وہ ایسا ایک سلیقہ ہے تبلیغ کا، جو اگر کسی کو آجائے تو بہت بڑے بڑے عالموں پر وہ حاوی ہو سکتا ہے۔تبلیغ میں دماغ سے زیادہ دل جیتنے ہوتے ہیں، اس نقطے کو یا درکھنا چاہئے۔جب دل جیت لئے تو تین چوتھائی کام وہیں ختم ہو گیا۔پھر دماغ جیتنا کوئی مشکل نہیں ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عظیم اور ایسا غالب کلام عطا کیا ہے کہ وہ علم کلام بڑوں بڑوں پر غالب آ جاتا ہے۔صرف دشمنی کا جذبہ یا نفرت اس کے درمیان میں حائل ہوتی ہے۔آپ اگر کسی سے محبت اور پیار سے اس کا دل جیت لیں تو جو باتیں اس کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے درمیان حائل تھیں، وہ دیوار جو بیچ میں کھڑی تھی ، وہ ختم ہو جاتی ہے۔738