تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 695
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء بھوٹان میں وہاں نئے ملک میں کام شروع ہو گیا ہے، نیپال میں کام شروع ہو گیا ہے ، سکم میں کام شروع ہو گیا ہے، مالدیپ کے جزائر میں کام شروع ہو گیا ہے۔غرضیکہ ہندوستان کی جماعت بھی اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑے ہو کر ارد گرد اپنے اثر اور نفوذ کو پھیلاتی جارہی ہے۔اور شکایت وہاں سے یہ آرہی ہے کہ ہمارے پاس کام کرنے والے تھوڑے رہ گئے ہیں۔اس لئے میں ہندوستان کی جماعتوں کو اس جلسے کے ذریعے یہ پیغام دیتا ہوں کہ حتی المقدور یہ کوشش کریں کہ وقف کہ میدان میں اب پیچھے رہ جانے والی جماعتیں نہ بنیں بلکہ آگے آنے والی جماعتیں بنیں۔اس وقت جماعت احمدیہ کو آپ کے بچوں کی ضرورت ہے۔آپ اس پر عہد کئے ہوئے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کی خاطر اپنا جان، مال، اولادیں، عزتیں سب کچھ نچھاور کریں گے۔پس آج جب احمدیت کو سپاہیوں کی ضرورت ہے، یہ سپاہی کیوں آپ روک رہے ہیں۔کثرت کے ساتھ ان کے نام پیش کریں۔دنیا کی لالچیں مجھے پتہ ہے کہ بہت زیادہ ہیں اور جماعت کے غریب گزارے، اکثر لوگوں کے لئے روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بمشکل پورے ہوتے ہیں۔لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ واقف خوش رہتا ہے۔واقف کو ایک سکینت ملتی ہے، اس کو خدا کی طرف سے ایک عظمت نصیب ہوتی ہے، اس کو ایک نجابت کا احساس ملتا ہے۔اس کی کوئی قیمت نہیں ہے دنیا میں۔دنیا کی کوئی لذت ان چیزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور پھر واقفوں کی اولادیں دنیا بھی پاتی ہیں اور دین بھی پاتی ہیں اور ہر لحاظ سے عزت پاتی ہیں۔اس لئے وقف سے نہ ڈریں اور تحریک نو میں بھی شامل ہوں۔اور فوری ضرورت پوری کرنے کے لئے بھی ہندوستان کی جماعتیں اپنے آپ کو پیش کریں۔روٹی پلانٹ کی روٹی آپ کھا ہی چکے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ پسند آئی ہوگی۔کل آمد چندہ جات بشمول جو بلی فنڈ کا ذکر میں کردوں۔ایک چھوٹا سا موازنہ 82-1981ء سے لے کر 87-1986ء تک کا موازنہ یہ ہے کہ مجھے پاکستان سے آئے ہوئے، ایک دوست نے کہا ہے کہ ہماری باتیں نہ زیادہ کیا کرو، بڑے جلتے ہیں لوگ۔تو پتہ نہیں، میں کروں یا نہ کروں؟ وہ کہتے ہیں کہ جب آپ بتا دیتے ہیں کہ پچھلے سال یہ خرچ تھا، اب یہ ہو گیا ہے تو سی آئی ڈی پیچھے پڑ جاتی ہے، مولوی پیچھے پڑ جاتے ہیں، اخبار کالے ہونے شروع ہو جاتے ہیں کہ ان کو تنگ کرو۔کسی طرح یہ مالی قربانیوں میں آگے بڑھنا بند کر دیں۔اس لئے ان کی درخواست پر میں یہ ذکر چھوڑتا ہوں۔ورنہ میری تو خواہش تھی کہ میں یہ ذکر کروں۔بیرون پاکستان سے آپ اندرون پاکستان کا اندازہ کر لیں۔بیرون پاکستان میں 82-1981ء میں ہمارے سالانہ چندوں کی کل رقم 7 کروڑ ، 12 لاکھ روپے تھی۔اس پانچ سال میں خدا تعالیٰ نے اپنا 695