تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 680

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم صدقہ جاریہ کے طور پر اس واپس آئی ہوئی رقم کو دوبارہ کسی اور ترجمہ قرآن پر لگایا جائے گا۔اس لئے جو پچاس کا پروگرام ہے، ان سب کے لئے ہمیں ایک ایک فردیا ایک ایک خاندان یا ایک ایک جماعت کی ضرورت ہے۔فریج ترجمہ قرآن کے لئے ہمارے امریکہ کے ایک مخلص احمدی دوست ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب کو توفیق ہوئی۔اٹالین کے لئے ان کے خسر ، ویسے یہ اس طرح تو نہیں کہنا چاہیے، حمید الرحمن صاحب، ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے داماد ہیں ، یہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔لیکن چونکہ وہ قرآن کی وجہ سے عزت پاگئے تھے، اس لئے میں نے کہا کہ ان کے خسر۔ورنہ یہ مراد نہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو ان کے تعارف سے پہچانا جائے۔بہر حال ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کو اٹالین زبان میں قرآن کریم کے ترجمے کا خرچ پیش کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔مکرم چوہدری شاہنواز کورشین قرآن کریم کا خرچ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔جماعت احمدیہ لیبیا نے سپینش زبان کا خرچ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔البانین کا ترجمہ ہمارے کینیڈا کے ایک مخلص دوست مکرم عیسی جان صاحب کے واقف زندگی بیٹے کر رہے ہیں۔ان کے بھائی دانیال خان نے یہ پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے کئے ہوئے البانین زبان کے ترجمے کا سارا خرچ پیش کریں گے۔فارسی کے متعلق جماعت ایران نے وعدہ کیا ہے کہ ہم کریں گے۔جاپانی کے متعلق چوہدری شاہنواز صاحب کے بچوں نے اپنے باپ کے علاوہ یہ پیش کش کی ہے۔اور اس سلسلہ میں بہت سی رقم بھی جمع کروا چکے ہیں۔کورین زبان کے لئے جماعت احمد یہ ابوظہبی نے پیشکش کی ہے۔یونانی زبان کے لئے ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب نے۔ویت نامی زبان کے لئے مکرم منور احمد صاحب امریکہ۔ہندی زبان ہندوستان کی تمام جماعتیں مل کر۔ہاؤ سا زبان نائیجیریا کی تمام جماعتیں مل کر۔سندھی کے لئے سندھ کی جماعتیں۔بنگلہ زبان مکرم محمد امین صاحب بنگلہ دیش اکیلے نحین زبان میں طبع ہو چکا ہے، یہ اس فہرست سے نکل گیا ہے۔اور غور کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ایک بہت ہی اہم زبان ہے۔اور یہ چین کے بھی مسلمان علاقے میں بولی جاتی ہے اور اس کے ساتھ سرحد کے پر لی طرف روس کے مسلمان علاقے میں بھی بولی جاتی ہے۔” اور غور قوم اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ اشتراکیت کے باوجود ان کا خاندانی نظام متاثر نہیں ہوا اور انہوں نے اپنی روایات کی حفاظت کی ہے اور اسلام سے محبت رکھتے ہیں۔اور غور کے متعلق جب میں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے بات کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قوم میں داخلے کے رستے پیدا کر دیئے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ”اور غور کے ترجمہ کی طباعت کا خرچ بھی، اٹالین کے علاوہ وہ خود ہی دینے کی 680