تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 662

خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم میری خوابوں میں آتا ہے اور مجھے ہدایت قبول کرنے کی تلقین کرتا ہے۔چنانچہ ایک لمحہ کے توقف کے بغیر انہوں نے اس وقت بیعت کی اور جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔(نعرہ ہائے تکبیر ) احمدیت کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی جو پاک تبدیلیاں ہیں، ان کی بھی خوشکن رپورٹیں آرہی ہیں۔اور جو خصوصاً ایسے علاقے ہیں، افریقہ میں جہاں بد مذاہب کہلانے والوں سے تعلق رکھنے والے ہیں۔حضور نے اس مرحلہ پر فرمایا کہ کسی مذہب کو بد تو نہیں کہنا چاہیے مگر یہ ایک محاورہ ہے۔ان مذاہب سے مراد ہے، جو Pagan مذاہب کہلاتے ہیں، ان کے اندر بہت سی رسمیں بہت سی گندی عادتیں ، شراب نوشی کا عام ہونا وغیرہ وغیرہ یہ سب کچھ پایا جاتا ہے۔لیکن اللہ کی عجیب شان ہے کہ احمدیت کے اندر داخل ہوتے ہی یک قلم ان بدرسموں پروہ تنسیخ کی لکیر پھیر دیتے ہیں۔اور خدا کے فضل سے تو بہ کر کے اپنے اندر ایک پاکیزہ تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔چنانچہ ایسی رپورٹیں بھی کئی جگہ سے آرہی ہیں کہ شراب کے پرانے رسیا ایک دم شراب سے نفرت کرنے لگ گئے۔اور اس کے نتیجے میں بھی دوسروں پر اثر ہوا۔اور جب اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں تو مولوی کہتے ہیں کہ ان پر انہوں نے جادو کر دیا ہے۔اور اس جادو کی وجہ سے انہوں نے شراب چھوڑ دی ہے۔آئیوری کوسٹ کا دعوت الی اللہ کا ایک طریق یہ ہے کہ جیلوں میں جا کر دعوت الی اللہ کرتے ہیں۔اور اللہ کے فضل سے قیدی بھی احمدی ہور ہے ہیں اور جیل کے افسران بھی احمدی ہو رہے ہیں۔ایک اطلاع جو کثرت سے مل رہی ہے، وہ یہ ہے کہ بہت سی جگہ دعوت الی اللہ میں کامیابی کا محرک وہ شدید مخالفت ہے، جو پاکستان کی حکومت اور رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے کی جارہی ہے۔پہلے چونکہ بہت سے لوگوں نے نام بھی نہیں سنا ہوا تھا، اس لئے منفی یا مثبت کسی بھی رنگ میں دلچسپی نہیں تھی۔ہم پیغام پہنچاتے تھے تو وہ دلچسپی نہیں لیتے تھے۔اب یہ جماعت کے خلاف اتنا بھرے بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کثرت سے انہوں نے جماعت احمدیہ کی خدمت کا یہ کام کیا ہے کہ جہاں جاتے ہیں، وہ سوال کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔اور دیکھتے ہی کہتے ہیں: اچھا تو تم ہو ، جن کا کلمہ اوپر سے اور اندر سے اور ہے۔تم وہ ہو، جو نعوذ باللہ گستاخیاں کرتے ہیں، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔اور نعوذ باللہ ہ سمجھتے ہو اور وہ سمجھتے ہو۔جب یہ غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں تو ان کے اندر اچانک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔اور ایک رنگ میں وہ، جو بعض پیشہ ور علماء یہ کام کر رہے ہیں، وہ کھاد ڈال رہے ہیں، جماعت احمدیہ کے لئے۔شروع میں ہو بھی آتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن جب گل جاتی ہے، تو یہی کھا دسونا بھی اگلنے لگتی ہے۔662