تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 492
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 جنوری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم نام رکھ دیں، وقت نہیں رکھ سکتے۔تو یہ موت کا حصہ ہی اتنا بڑا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اتنا قیمتی وقت رکھنے والی جماعت، جو مستعد جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، اس کے افراد میں سے اکثر کا وقت بہت حد تک اس طرح ضائع ہوتا ہے کہ کوئی بھی عمل اس سے پیدا نہیں ہورہا۔اور پھر جب آپ اس وقت کو لیتے ہیں، جو مصروف ہے، جو حقیقت میں وقت کہلانے کا مستحق ہے، اس میں سے بھاری حصہ ایسا ہے، جو الی ربک فارغب کے مطابق نہیں ہے۔وہ باطل کی طرف حرکت کر رہا ہے یا بے معنی ہے۔وو کیا ہم کوشش یہ کر رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق ، آپ کے نمونے کے مطابق اپنے وقت کو وقت بنائیں یا اس کے برعکس سمت میں ہم رواں تھے۔اس پہلو سے بھی آپ غور کر کے دیکھیں تو ہمارا بہت سا وقت ضائع ہوتا نظر آ رہا ہے۔بلکہ ہماری اولاد کا وقت ہم سے بھی زیادہ ضائع ہوتا نظر آ رہا ہے۔اور یہ خطرہ سامنے آجاتا ہے کہ ہم نے اگر اپنے وقت کی کوئی قیمت حاصل بھی کر لی تو ہم ایسی اولاد پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں، جن کا وقت باطل کی طرف متحرک ہے۔وہ جو سائنس پڑھیں گے تو دنیا دار کی طرح سائنس پڑھیں گے۔ان کو سائنس میں خدا نظر نہیں آرہا ہو گا۔وہ جب دنیا میں بڑے بڑے مقامات حاصل کریں گے تو دنیا دار کی طرح باطل کے مقامات حاصل کر رہے ہوں گے۔جبکہ آج کی نسل میں وہی مقامات پر فائز آدمی، ایک متقی بھی ہو سکتا ہے، مخلص بھی ہوسکتا ہے۔جس کے وقت کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف ہے۔تو اتنا کام ہونے والا ہو جس جماعت کے لئے اندرونی طور پر اور پھر بیرونی طور پر جو دنیا کو تبدیل کرنا ہے، یہ ساری باتیں اگر آپ غور کریں تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ کتنا بھاری ذمہ داری کا کام ہے، کتنا بوجھ ہے۔اور جولوگ جوابدہ ہیں، وہ خدا کے سامنے کس طرح اپنے لمحات کا حساب پیش کریں گے۔ہم میں سے ہر ایک جوابدہ ہے۔اس لئے جماعت کا وقت اگر پہلے سے بہتر نہیں ہوتا تو میں جوابدہ ہوں۔اس تصور سے بھی میرے ہوش اڑتے ہیں اور جان کا نپتی ہے کہ کیا میں خدا کو منہ دکھاؤں گا کہ تمہارے وقت کے ساتھ جماعت کا وقت باندھا تھا اور تم نے پرواہ نہیں کی کہ اس جماعت کا وقت پہلے سے زیادہ بہتر ہوتا چلا جائے۔اور آپ میں سے ہر ایک جوابدہ ہے، اپنے وقت کے لئے اور اپنے ماحول کے لئے جوابدہ۔اور ہر امیر جوابدہ ہے، اپنی جماعت کے لئے اور ہر عہدے دار جوابدہ ہے، اپنی جماعت کے وقت کے لئے ، جہاں تک اس کے شعبے سے تعلق ہے۔کئی لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ کئی علاقوں میں مثلاً بعض علاقائی جماعتیں ہیں ، بعض شہری جماعتیں ہیں، وہاں سے یہ اعتراض ملتے رہتے ہیں کہ جی امیر نے تو دس چار آدمیوں کے ساتھ ایک عاملہ 492