تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 410

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم توجہ کرنی چاہئے۔آپ جو چاہیں ذرائع اختیار کر لیں، اس سے زیادہ قوی ذریعہ اور کوئی نہیں ہے۔ایک چھوٹے سے بچے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کر دیں اور اس سے زیادہ آسان ذریعہ اور کوئی نہیں ہے۔ہر دوسری محنت آپ سے کئی گنا زیادہ وقت مانگے گی ، کئی گنا زیادہ توجہ اور استقلال مانگے گی۔لیکن خدا کے متعلق چند پیار کی باتیں روزانہ بچوں سے کر دینا، وہ ایک ایسا نکتہ ہے، جس سے آپ بھی فائدہ اٹھائیں اور وہ بھی فائدہ اٹھائیں گے۔جس طرح بعض دفعہ مائیں بچوں کو اچھی چیز کھلا رہی ہوتی ہیں تو اس میں سے ایک ایک چمچہ آپ بھی کھاتی جاتی ہے۔اور وہ نظارہ آپ نے دیکھا ہوگا، بڑا مزا آتا ہے دیکھ کے کہ بچے کا چہرہ بھی لذت سے بھرا ہوتا ہے اور ماں کا چہرہ بھی لذت سے بھرا ہوتا ہے۔اسی طرح خدا کی محبت لقمہ لقمہ ان کو کھلائیں ، یہ اس کے محتاج ہیں اور ایک ایک لقمہ آپ بھی ساتھ کھاتی رہا کریں۔جب بچوں کی تربیت کریں گے تو پھر آپ کی بھی ساتھ تربیت ہوگی۔جب خدا سے پیار ہو گیا تو پھر خدا کے نام پر قربانیاں مانگی جائیں، خدا کے نام پر آپ کو بلایا جائے ، تبلیغ کی تلقین کی جائے اور اس وقت آپ اس کو یا درکھ کر آگے بڑھ رہے ہوں گے۔ہر قدم اٹھانے کی لذت آپ کو اس لئے آئے گی کہ آپ جانتے ہوں گے، میرا ایک دوست ہے، جو دیکھ رہا ہے۔جب چندہ دیں گے تو ذہن میں کبھی یہ نہیں آئے گا کہ فلاں سیکریٹری مال کو دے رہا ہوں یا کسی اخبار میں چھپوانے کی خاطر دے رہا ہوں۔بلکہ چندہ دیں گے تو دماغ میں ہوگا کہ اللہ ہے، ایک میرا، اس کی ضرورت پوری کر رہا ہوں میں ، اس کے دین کی۔اور وہ دیکھ رہاہے تواس کو مزہ آرہا ہوگا۔زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔کام وہی ہیں، جو عام لوگ کرتے ہیں لیکن اس کا رخ بھی بدل جاتا ہے سارا قبلہ بدل جاتا ہے اور قبلہ درست ہو جاتا ہے۔پس خدا کی محبت قبلہ درست کرتی ہے۔یہ آپ کی ہر نیکی کا قبلہ درست کر دے گی۔چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی اور بڑی سے بڑی نیکی کا بھی۔اور نیکیاں سب آسان ہو جائیں گی۔اب بعض دوست ایسے ہیں، جن کو خدا توفیق بھی دیتا ہے لیکن چندہ دیتے ہوئے ان کو اتنی تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے کہ ان کا قبلہ درست نہیں ہوتا۔اگر ایسے لوگ یہ سمجھتے کہ وہ اپنے بچوں کی ضرورت کے مقابل پر میں جماعت کی ضرورت پوری کر رہا ہوں اور بوجھل دل میں اس کے نتیجے میں محرومیاں پیدا ہوں گی۔اگر محبت پیدا ہو جائے اور خدا کے ولی بن جائیں تو ذہن میں یہ ہوگا کہ سب کچھ میرے پیارے نے دیا ہوا ہے، اس کی ضرورت ہے، اس کے دین کی ضرورت ہے، میں جو کچھ بھی دوں گا، اس کے نتیجہ میں اس کا پیار مجھے ملے گا اور وہ مالی قربانی آسان بھی ہو جائے گی اور لذیذ بھی ہو جائے گی اور اس کی قوت بھی بڑھ جائے گی“۔410