تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 29

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اپریل 1985ء گویا کہ تمام عیسائی ممالک کے خلاف ایک سازش ہورہی ہے۔اور ان کا یہ حال ہے کہ قوم کو فرضی خطرات میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں اور حقیقی خطرات سے بالکل نابلد ہیں۔انہیں یہ نظر ہی نہیں آرہا کہ خطرہ ہے کہاں اور کس طرف سے آنے والا ہے۔اور اگر علم ہے بھی تو پھر ان خطرات سے قوم کی توجہ عمداً اور مجرم کے طور پر ہٹارہے ہیں۔یعنی جماعت احمد یہ جو اسلام کے لئے دنیا کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے، وہ تو ان کے لئے شدید خطرہ ہے۔اور عیسائیت، جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ بننے والا ہے اور وہ دجال بن کر تمام دنیا پر چھا جائیں گے، ان سے کلیتہ غافل ہیں بلکہ ان کے مددگار بن رہے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کی تبلیغ روک کر د یعنی روکنے کی کوشش کر کے ،روک تو کوئی نہیں سکتا ) جب انہوں نے یہ دیکھا کہ دنیا میں ان کی بدنامی ہورہی ہے اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ عجیب حکومت ہے، جو نظریات پر پابندی لگا رہی ہے اور آزادی ضمیر کا گلا گھونٹ رہی ہے۔تو اس کا علاج انہوں نے یہ کیا کہ ایک طرف تو ہمارا جلسہ سالانہ تک ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اور وہ بند کیا ہوا تھا اور دوسری طرف پاکستان ٹیلی ویژن پر پادری آکر با قاعده عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے اور یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہے تھے۔اس طریق عمل سے ان کا دوغلہ پن بھی ثابت ہو جاتا ہے اور ان کے الزامات کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان غلط اقدام کرے تو اس سے غلط نتیجے نکلتے ہیں۔جب جماعت احمدیہ کی تبلیغ ایک خطرہ بنا کر روکنے کی کوشش کی تو ساری دنیا میں ایک شور پڑا کہ یہ کیا ظلم کر رہے ہو۔تو یہ ظاہر کرنے کی خاطر کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں، ہم تو آزادی ضمیر کے محافظ ہیں۔انہوں نے عیسائیوں کو چھٹی دے دی بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ واقعہ ہوا کہ اس (SO CALLED) نام نہاد اسلامی حکومت کے ماتحت باقاعدہ ٹیلی ویژن پر عیسائیت کی تبلیغ کی گئی اور یسوع مسیح کو بطور نجات دہندہ کے پیش کیا گیا۔لیکن ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اگر انہوں نے ہماری پشت پر سے حملے کرنے ہیں تو کرتے چلے جائیں۔ہمار ا رخ تو اسلام دشمن طاقتوں کی طرف ہے۔ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دو میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنے سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور 29