تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 257

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء یہ اسی قسم کا مضمون ہے، جو یہاں بیان ہو گیا کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں، جو خوش نصیب ہیں، ان کو بڑی بڑی عظیم الشان قربانیوں کی توفیق مل گئی۔ایسے ایسے احمدی آج دنیا میں ہیں کہ جن کو، ایک ایک آدمی کو خدا کے فضل سے ایک ایک کروڑ روپیہ عمل جماعت کے لئے پیش کرنے کی پچھلے ایک دو سالوں میں توفیق ملی ہے۔کسی زمانے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ساری جماعت کا چندہ بھی ایک کروڑ نہیں ہوتا تھا۔لیکن ایک چندہ پر دوسرا چندہ حیرت انگیز طریق پر اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی ہے بعض کو کہ ان کا چندہ پچھلے چند سالوں کے اندر ایک کروڑ کے قریب پہنچ گیا تو بعض لوگ جب اس کو پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں تو ان کے دل میں تمنائیں پیدا ہوتی ہیں۔مثلاً جب میں نے بتایا کہ ہم نے ایک قرآن کریم طبع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو خدا نے ایک آدمی پیدا کر دیا کہ سارا خرچ میں دوں گا۔دوسرے کا فیصلہ ہوا تو ایک اور آدمی پیدا کر دیا۔تیسرے کا فیصلہ ہوا تو خدا نے ایک اور پیدا کر دیا۔یعنی قرآن کریم کے تراجم ابھی مکمل نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ آدمی بھیج دیتا ہے کہ اس کا خرچ تو وہ اٹھا لے گا۔تو بعض جماعتوں کی طرف سے بعض افراد کی طرف سے بڑی دردناک چٹھیاں آنی شروع ہوئیں، اللہ ان کو جزاء دے کہ ہمارے دل کا عجیب حال ہے۔ایسی بے قرار تمنا پیدا ہوئی ہے، برداشت نہیں کر سکتے ، کاش خدا ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی ایک پورے قرآن کریم کے ترجمے کا خرچ اٹھائیں۔ایک، دو کی بات نہیں ہے، بیسیوں ایسے دوست ہیں، جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ تمنا تڑپا دی ہے ان کے دلوں میں اور بعض جماعتوں نے پھر پیش بھی کر دیا۔چنانچہ لیبیا کے احمدیوں نے اس معاملہ میں پہل کی اور مجھے لکھا کہ ہم میں سے ایک آدمی تو نہیں ہے ایسا لیکن آئندہ ترجمہ قرآن کریم جو شائع ہونے والا ہے، اس کے لئے ہم عہد کرتے ہیں، سارے لیبیا کی جماعت کے دوست کہ ہم دیں گے۔اور یہ وہ مضمون ہے، جو اس آیت نے چھیڑ دیا:۔أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَّذْرٍ یعنی تم جو نذریں باندھتے ہو۔نذروں کی کئی قسمیں ہیں۔ایک قسم یہ بھی ہے کہ دل میں ایک تمنا لے کے بیٹھ جاتے ہو کہ کاش ہمارے پاس ہو تو ہم یہ خرچ کریں۔تو فرماتا ہے کہ اللہ اس کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ایسی نذریں بھی موجود ہیں، جو بظاہر پوری نہیں بھی ہوں گی تو خدا کے حضور پوری ہو چکی ہوں گی۔ایسے مالک سے سودا ہے۔کتنا عظیم الشان سودا ہے ! کوئی نظیر کسی اور سودے میں نظر نہیں آسکتی۔جس کو 257