تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 215
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 04 اکتوبر 1985ء تر غیر ملکی ہیں، جو یہاں سپین میں آباد ہو چکے ہیں۔اس وقت احمدیت کا وجود غیر ملکیوں سے بنا ہوا ہے، نہ کہ مقامیوں سے، یہ میں کہنا چاہتا ہوں۔یہ صورت حال فکر مند کرنے والی ہے۔اور یہاں کام کی جتنی بڑی ضرورت ہے، اس کے لحاظ سے مایوسی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن میں آپ کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ ضرورت کے لحاظ ہم اس کا کروڑواں حصہ بھی نہیں کر سکے۔جس ملک میں ایک مشن قائم ہوا تقریبا نصف صدی گزر چکی ہو اور آج بھی مقامی لوگوں کے گنتی کے نفوس ہیں، یہ بات قابل فکر ہے۔ہزار عذر پیش کئے جائیں کہ آئے اور پھر دوسرے ملکوں میں چلے گئے، مرکز نہ ہونے کی وجہ سے دوست آئے اور پھر رابطہ قائم نہیں رہ سکا۔اور بہت سی باتیں ہیں، جو پیش کی جاسکتی ہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سب عذر ایک طرف، یہ صورت حال اپنی جگہ پھر بھی تکلیف دہ رہے گی۔اسے ہم نے بدلنا ہے۔اور اسے ہم نہیں بدل سکتے ، جب تک مقامی جماعت میں سے ہر شخص خود مبلغ نہیں بنتا۔ایک مبلغ کا کام در اصل تبلیغ کو منظم کرنا ہے، لٹریچر پیدا کرنا ہے، تبلیغ کی تربیت دینا ہے اور وسیع پیمانے پر لوگوں سے رابطہ اور احمدیت کے نام کا تعارف کروانا اور اسلام کے نام کا عمومی تعارف کروانا، یہ کام میں مبلغ کے۔اور انفرادی طور پر جتنا اس کو وقت ملے، وہ پھر تبلیغ بھی کرے۔لیکن انقلابی تبلیغ ، جس سے ملکوں کے حالات بدلا کرتے ہیں، وہ ہر فرد کا کام ہوا کرتا ہے۔وہی کرے تو تبلیغ ہوتی ہے، ورنہ نہیں ہوتی۔میں اس سے پہلے بھی بار ہا مثالیں دے چکا ہوں۔انگلستان ہے، جرمنی ہے، جب سے میں ان علاقوں میں آیا ہوں، ان کی تبلیغ میں کئی گنازیادہ تیزی آچکی ہے۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ مبلغ کام نہیں کرتا تھا، اس نے شروع کر دیا۔بلکہ احمدی ، جو وہاں آباد ہیں، وہ کام نہیں کرتے تھے، انہوں نے اب کام شروع کر دیا ہے۔اس لئے آپ سب جو یہاں بیٹھے میری آواز کو سن رہے ہیں، آپ سب میرے مخاطب ہیں۔آپ اگر کام کریں گے تو تبلیغ کے نتائج ظاہر ہوں گے۔مقامی لوگ خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیں گے۔اگر آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ میر صاحب ( مکرم سید محمود احمد ناصر صاحب) یا کرم الہی صاحب ظفر یاستار صاحب ( مکرم عبد الستار خان صاحب) یہی لٹریچر شائع کریں گے اور تقسیم کر دیں اور یہ کافی ہے تو پھر یہ غلط فہمی ہے۔آپ کی اس کو دل سے نکال دیں ، ورنہ اسی طرح بیٹھے رہ جائیں گے۔پین کو اگر احمدی کرنا ہے تو ہر احمدی مرد، ہر احمدی عورت، ہر احمدی بچے کو اپنے ماحول میں کام کرنا ہوگا۔اور اس کے علم کی کمی اس کی راہ میں حائل نہیں ہوگی۔کیونکہ اب کیسٹ کے لٹریچر کے ایسے ذرائع پیدا ہو چکے ہیں کہ کم علم لوگ بھی، جن کو زبان پر بھی عبور نہیں ہے، وہ بھی اچھی تبلیغ کر لیتے ہیں۔میں نے بارہا جرمنی کے احمدیوں کی مثالیں دی ہیں۔ان 215