تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 188
پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ تنزانیہ تحریک جدید - ایک الہی تحریک اور پرہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو۔اور سچ سچ دلوں کے علیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شر کا پیج پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضاء۔ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے۔سو اپنے دلوں کو ہر دم شولتے رہو۔اور جیسے پان کھانے والا اپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے اور ردی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے، اسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو اور جس خیال یا عادات یا ملکہ کوردی پاؤ، اس کو کاٹ کر باہر پھینکو۔ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے سارے دل کو نا پاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ“۔اسی طرح فرمایا: وو (ازالہ اوہام، حصہ دوم صفحہ 447,448 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 547,548) تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ، جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے، جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے، وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے۔بد کار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا، متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا، ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا، خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مند نہیں ، اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12۔13) اس وقت دنیا ایک تباہی کے کنارے کھڑی ہے۔باہمی محبت و پیار اور امن و سلامتی کا فقدان ہے۔جگہ جگہ نفرتوں کی آگیں بھڑکائی جارہی ہیں اور انسان اپنے ہی بھائیوں کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے۔گناہوں کی کثرت ہے اور فسق و فجور کی فراوانی۔شرک اور دہریت کا ایک سیلاب ہے، جو نوع انسانی کو بہائے لے جارہا ہے۔وہ لوگ ، جو خدا تعالیٰ پر ایمان کا دعوی کرتے ہیں، بدقسمتی سے ان کا ایک بڑا حصہ بھی یقین کے مرتبہ سے عاری ہے۔اور عملاً انہوں نے خدائے واحد کی بجائے اس دنیا کو اور نفسانی خواہشات کو 188