تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 10
مفہوم ارشاد فرموده 16 فروری 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم کی حفاظت کر رہا ہے اور کون اس پر حملہ آور ہورہا ہے۔عربوں، افریقوں، یورپین اور دیگر تمام لوگوں کو اس امر سے اچھی طرح آگاہ کیا جائے۔ابھی تک مجھے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اشاعت کی یہ تحریک با قاعدہ طور پر شروع کر دی گئی ہے۔دشمن سے ہماری جنگ کا یہ انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقام ہے۔یہ آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچنی چاہئے کہ یہ وہ آخری مقام ہے، جہاں دشمن پہنچ چکا ہے۔اور اس کے اصلی ارادے اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔یہ کلمہ کے محافظ نہیں بلکہ کلمہ کے دشمن ہیں۔انگلستان کی جماعت کے تمام افراد بھی اس کام میں مصروف ہو جائیں اور جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کریں۔دنیا بھر کے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو تسلسل کے ساتھ اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے۔عرب لوگوں اور عرب اخبارات کو احتجاجی خطوط لکھیں۔تمام عرب، افریقی اور دوسرے مسلمان سفارتخانوں کو بتائیں کہ دین اسلام اب اس حد تک تنزل کا شکار ہو چکا ہے۔انہیں اس بات کی طرف متوجہ کریں کہ کلمہ سے ہی اسلام کا آغاز ہوا تھا اور یہی وہ کلمہ تھا، جس کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ان سے دریافت کریں کہ کیا حضرت بلال نے کلمہ کی خاطر جو قربانیاں دیں تھیں، وہ اسی مقصد کے لئے تھیں، جو آج حکوم پاکستان کر رہی ہے۔کیا تمام اسلامی دنیا خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ دیکھتی رہے گی۔یہ ایک ایسا جرم تعظیم ہے کہ اگر انہوں نے پاکستان یا کسی بھی جگہ کے کلمہ دشمن افراد کے خلاف اپنی آواز بلند نہ کی تو وہ کبھی آسمانی سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔اگر وہ کلمہ دشمن افراد کا مادی اسباب کے ساتھ ہاتھ روک سکتے ہیں تو انہیں ضرور ایسا کرنا چاہئے۔یقینا انہیں اس کی استطاعت بھی حاصل ہے۔بعد ازاں اس سوال کے جواب میں کہ کیا مظاہروں اور جلوس کے ذریعہ اس کلمہ دشمن تحریک کی تشہیر کی جاسکتی ہے؟ حضور نے فرمایا:۔یہ کام ایسے رنگ میں نہ ہو ، جیسے سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں۔بلکہ قرآنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اور جماعت احمدیہ کی روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جدو جہد کریں۔ہمیں سنجیدہ ، صاحب عزم محتاط اور با مقصد ہونا چاہئے۔مقصد یہ ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کی آڑ میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والی ضیاء حکومت، ان کے حواریوں اور ملاؤں کا اصلی روپ ساری دنیا کو دکھایا جائے۔اور بتایا جائے کہ چونکہ ان لوگوں نے کلمہ پر حملہ کیا ہے، اس لئے در حقیقت یہ لوگ خدا تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عقیدہ پر حملہ آور ہور ہے ہیں۔پس آپ کی صدا اتنی بلند ہونی چاہئے کہ اسلام آباد میں بار بارسنی جائے اور آپ کی صدا کی بازگشت سے اسلام آباد لرز اٹھے“۔( مطبور ہفت روزہ النصر 22 فروری 1985ء) 10