تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 171

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ہی خطبہ جمعہ فرمود و 20 ستمبر 1985ء اور یہ جتنی نئی جگہیں اللہ تعالٰی عطا فرمارہا ہے، پرانے سب مراکز سے اپنی گنجائش میں اور رقبے میں زیادہ ہیں۔اس کے ساتھ بھی ایک بہت ہی خوبصورت اور وسیع پائین باغ ہے۔اور وہاں دور تک سیر کی جگہ ہے اور وہ سارا اس عمارت کے ساتھ ہی ملحق ہے۔اور پھر ساتھ اور رقبہ بھی مل رہا ہے تا کہ کوئی بہت عظیم الشان مسجد بنانے کی اللہ تعالیٰ جب توفیق عطا فرمائے تو ساتھ کے رقبے میں وہ تعمیر کر لی جائے۔اور وہاں کا سارا علاقہ بیلجیئم کے بہترین علاقے پر مشتمل ہے۔اور برسلز کا وہ حصہ، جو ساؤتھ ویسٹ ہے، یعنی جنوب مغربی۔اس میں نہایت اچھی قسم کے لوگ صاف ستھرے، جرائم سے پاک علاقہ ہے، مہذب تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔اور باوجود اس کے کہ پہلے ایک لمبے عرصہ تک مبلغ کی موجودگی کے باوجود وہاں لوگوں کو توجہ نہیں تھی۔لیکن اس علاقے کے لوگوں نے غیر معمولی تعاون کیا ہے۔ہالینڈ کی طرح یہاں کے معززین بھی اردگرد سے مسجد کے لئے پھولوں کے تحائف لے کر آتے رہے، بعضوں نے اور تحائف پیش کئے ، بعض مستقل لگانے کے لئے پودے لے کر آئے۔خدا نے دلوں میں ایسی محبت پیدا کر دی تھی کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔اور یہاں بھی خدا تعالیٰ نے عربوں میں سے بعض معززین عطا فرمائے۔ایک عرب پروفیسر ہیں، ان کے تو دل کی کیفیت یہ ہوگئی تھی کہ پہلے تو کہنے لگے کہ میں تو احمدی ہوں لیکن ابھی بیعت نہیں کروں گا اور پہلے میں لوگوں کو تیار کروں گا۔پھر وہ دوسرے دوستوں کو بھی لے کے آئے ، ان کو بھی تبلیغ کروائی۔پھر دوبارہ دوسرے دوستوں کو لے کر آئے ، ان کو تبلیغ کروائی۔اور آخر پر ایک دوست نے ، جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی، انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں دستی بیعت کرنی چاہتا ہوں۔اور جب دستی بیعت ہورہی تھی تو انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے بھی فوراً دستی بیعت میں شمولیت کرلی اور ان سے مزید علیحدگی برداشت نہیں ہوئی۔وہ بڑے قابل آدمی ہیں، ان کا ہزاروں پر اثر ہے اور اس علاقہ میں بہت ہی معزز ہیں۔میں نے تو ہزاروں پر اثر کہا ہے، ان کا یہ بیان تھا کہ یہاں ہمارے ملک اور ساتھ کے ملک کے کئی لاکھ باشندے ہیں اور میں انشاء اللہ ان سب تک پیغام پہنچاؤں گا۔تو جب خدائی زمینیں عطا کرتا ہے تو ساتھ زمینیں بھرنے والے بھی عطا کر دیا کرتا ہے۔یہ ہے، اس کی شان۔محاورہ ہے کہ کوئی کسی سے کچھ مانگے تو غریب آدمی پھر بہانے کے طور پر مزید بھی مانگتا رہتا ہے کہ اونٹ دے، لادنے والے بھی ساتھ دے۔ہمارے تو مانگنے کے بہانے ہوتے ہیں، خدا کی عطا کے بہانے ہوتے ہیں۔وہ ایک چیز دیتا ہے تو اس کی ضروریات کے دوسرے حصے بھی خود بخود پورے کرتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ بیلجیئم کا نیا مشن، جو بہت دعاؤں کے ساتھ کھولا گیا ہے، اس کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے وہی شان دکھائی ، وہی وعدے پورے کئے۔171