تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 159

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 13 ستمبر 1985ء وہ پاکستان سے آئے ، خواہ وہ دنیا کے کسی اور حصہ سے آئے، اگر وقف عارضی کر کے ہالینڈ آنا چاہے تو ان کو کے لئے اس Complex میں انشاء اللہ تعالیٰ بغیر کسی پیسے کے رہائش مہیا کر دی جائے گی اور کھانا پکانے کی سہولتیں بھی دے دی جائیں گی۔کھانے کا خرچ ان کا اپنا اور محنت اپنی شرط یہ ہے کہ جگہ کو صاف رکھنا ہے اور جس طرح صاف وصول کی تھی، اس سے زیادہ صاف چھوڑ کر جائیں۔کم صاف نہ ہو اور زیادہ صاف نہیں کر سکتے تو پھولوں کا کوئی پودا ہی لگا دیں یہاں تحفہ۔جگہ کو اور ماحول کے مطابق خوبصورت بنانے کی کوشش کریں۔ارد گر د تبلیغ کے بے حد مواقع ہیں خدا کے فضل سے۔کیونکہ جو Tourist آتا ہے، اس کے پاس وقت بہت ہوتا ہے۔اس کو تبلیغ کی جاسکتی ہے، اس سے دوستیاں بنائی جاسکتی ہیں۔ساری دنیا کے لئے نہایت عمدہ تبلیغی مرکز بن سکتا ہے۔کیونکہ یہاں تقریباً سب دنیا سے لوگ آتے ہیں۔اور سکول کا اور اس کا ٹکراؤ نہیں ہے۔کیونکہ چھٹیاں ہوتی ہیں، انہی دنوں میں یہ سیاحوں کا موسم شروع ہوتا ہے۔اور انہی دنوں میں والدین کو بھی توفیق ملتی ہے عموما کہ وہ چھٹیوں پر آجائیں۔لیکن اگر اس کے علاوہ بھی ہو تو میرے خیال میں سکول کی ضرورتیں پوری کرنے کے باوجود یہاں انشاء اللہ اتنی جگہ مل جائے گی کہ روز مرہ کے آنے والے واقفین زندگی با آسانی سے یہاں ٹھہر سکیں گے۔ایک تیسرا منصوبہ میرے ذہن میں یہ ہے کہ انگلستان میں ہمیں اشاعت کا جو مرکز ہے، اس میں وقت پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اور ہالینڈ میں اشاعت کے لحاظ سے ایک اچھا موقع ہے۔یہاں مطبع خانے بھی بڑے عمدہ معیاری ہیں، کاغذ بھی نسبتا ستا ملتا ہے اور ویسے بھی ہر قسم کی سہولتیں یہاں سے دنیا میں لٹریچر بھجوانے کی موجود ہوں گی۔لیکن یہ بھی منحصر ہے اس بات پر کہ یہاں کی حکومت ہمیں اجازت دیتی ہے یا نہیں؟ ہم کوشش کریں گے، ان کے لئے تو آمدن کا ذریعہ ہے۔لکھوکھا پونڈ تک یہ معاملہ پھیل جائے گا دیکھتے دیکھتے انشاء اللہ، سالانہ خرچ کے لحاظ سے۔کیونکہ اتنے وسیع منصوبے اشاعت کے جن کی بنیادیں ڈالی جارہی ہیں کہ ابھی چند سال کے اندر اندر لاکھوں پونڈ سالانہ عام بات ہوگی ، اس کے لئے۔یعنی اتنا بڑا خرچ نہیں سمجھا جائے گا۔اور پھر یہ انشاء اللہ تیزی سے ترقی کرنے والا معاملہ ہے۔جس ملک میں یہ مرکز ہو، یہ اس کی خوش قسمتی ہے۔تو آئندہ جا کر تو اس نے اربوں تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔بہت ہی اچھی بنیاد قائم ہو جائے گی۔اس کے لئے بھی بہترین جگہ ہے۔یعنی اشاعت کے کام کے لئے یہ مرکز مصنفین بھی یہاں آکر ، یہاں بیٹھ کے نہایت ہی عمدہ ماحول میں اپنی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ترجمہ کرنے والے بیٹھ سکتے ہیں آکر اور علمی لحاظ سے یہاں کی جو یونیورسٹیز (Universities) ہیں، ان کو 159