تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 157

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ خطبہ جمعہ فرموده 13 ستمبر 1985ء کل جو بروکر (Broker) تشریف لائے ہوئے تھے ، ان کا یہ خیال تھا کہ اتنی چھوٹی سی جماعت کو 66 کے لئے اتنی بڑی عمارت ہے تو کیوں نہ کرایہ پر چڑھائی جائے ؟ چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ “ بلڈنگ جس کو میں نے کہا ہے ، اس بلڈنگ کو آپ کرایہ پر دے دیں تو دس ہزار پونڈ سالانہ کراہیں جائے گا۔اس سے اندازہ کریں، بلڈنگ کی حالت کیا ہے اور کتنی وسیع ہے؟ یعنی دولاکھ روپیہ سالانہ کرایہ یہ صرف اسی عمارت کا مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کی باقی ساری عمارتیں آپ کی ضرورت سے زیادہ ہیں تو آپ اس کو کیوں نہیں دے دیتے ؟ میں نے کہا: یہ فیصلہ تو ہم اس طرح آنا فانا نہیں کر سکتے تسلی سے کریں گے، دیکھیں گے۔مگر میں تمہیں اتنا بتادیتا ہوں کہ جب چھ مہینے پہلے ہم نے اسلام آبا د لیا تھا تو وہاں بھی لوگوں کو وہم تھا کہ اتنے بڑے Complex کو کس طرح سنبھالیں گے ؟ کس طرح وہاں عمارتیں خالی خولی خل خل کریں گی؟ اور ہمارے لئے ممکن نہیں ہوگا، دیکھ بھال پر اتنا خرچ کرنا پڑے گا۔اور میں نے اس کو کہا : آنے سے پہلے، تین نئے مربیوں کے کوارٹرز کے بنانے کا آڈر دے کر آیا ہوں۔اتنی جگہ تنگ ہوگئی ہے فوراً۔اللہ تعالیٰ تو جب جگہیں وسیع دیتا ہے تو کام بھی بڑھا دیتا ہے۔وہاں تو اب جگہیں تلاش کرنی پڑتی ہیں کہ فلاں دفتر کے لئے کس طرح جگہ مہیا کی جائے ؟ اور جو بیرکس ہیں، وہ تو بہر حال سکولز کے لئے ہم نے رکھی ہوئی ہیں۔بڑی بڑی جو Dormitories ہیں یا ہالز ہیں، وہ ہماری روزمرہ کی ضرورتوں اور جلسوں وغیرہ کے لئے بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔وہ تو چند مہینے کے اندر اندر دیکھتے دیکھتے اسلام آباد بڑا ہونے کی بجائے وہ چھوٹا نظر آنے لگ گیا ہے۔اس لئے جب اللہ تعالیٰ کا جب یہ سلوک ہے تو میں تو دعا کرتا ہوں کہ پرسوں کی بجائے یہ Complex ہمارے لئے کل چھوٹا ہو جائے۔جتنی تیزی سے ہم ترقی کریں گے، اتنی تیزی کے ساتھ ہماری عمارتیں ہمارے پیچھے رہنا شروع ہو جائیں گی۔اور ان کا چھوٹا ہونا ، اللہ کا انعام ہے۔یہ کوئی بری خبر نہیں ہے کہ جگہ تنگ ہو گئی ہیں۔میں اس کی مثال ہمیشہ یہ دیا کرتا ہوں ، جماعت کو بار بار سمجھانے کے لئے کہ ماں جس بچے کے کپڑے چھوٹے ہوا کریں، جلدی جلدی آج ایک کپڑا بنایا، کل وہ بچے کا قد او پر نکل جائے اور چھوٹا ہو جائے ، بوٹ خرید نے پڑیں بار بار اور وہ چھوٹے ہو جائیں تو وہ یہ دعا تو نہیں کیا کرتی کہ اے اللہ ! اس بچے کا قد روک لے، یہ بڑا ہونا بند ہو جائے، مجھے مصیبت پڑی ہوئی ہے، کپڑے بنا بنا کر تھک جاتی ہوں اور پھر بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں، وہ تو دیکھ دیکھ کر نہال ہوتی ہے۔وہ تو کہتی ہے کپڑے میرے بچے کو لگ جائیں لیکن یہ بڑھتار ہے۔تو جماعت کے ساتھ خلفاء کا یہی ہوتا ہے تعلق۔بڑھتی رہیں اور جگہیں چھوٹی ہوتی رہیں ، وہ تو نہال ہوتے رہیں گے۔157