تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 6
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 جنوری 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم ایک سال کی میں نے مہلت دی ہے۔اس لئے فی الحال سوئٹزر لینڈ میں سوائے پرانے مشن کی کچھ توسیع کے اور کوئی پروگرام نہیں ہے۔جب فرانس آئے تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی جماعت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے۔ہم تو سمجھا کرتے تھے کہ وہاں دس پندرہ کی ایک کمزوری جماعت ہوگی لیکن جب جمعہ پہ ہم اکٹھے ہوئے تو صرف میر دہی پینسٹھ تھے خدا کے فضل سے اور عورتیں اس کے علاوہ بھی تھیں۔اور جو خدمت کرنے والی خواتین تھیں، جو سب کا خیال رکھ رہی تھیں اور کھانا وغیرہ پکاتی تھیں اور ہر قسم کی خدمت کر رہی تھیں، ان میں ایک یوروپین خاتون بھی تھیں، جو حیرت انگیز اخلاص سے دن رات محنت کر رہی تھیں وہاں۔تو وہاں تو بالکل ایک نیا نقشہ نظر آیا جماعت کا۔وہاں خدا کے فضل سے پیرس کے ایک بہت اچھے علاقے میں جو صاف ستھرا اور معاشرہ کے لحاظ سے بھی صحت مند علاقہ ہے، وہاں ایک بہت اچھا مشن خرید لیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو یہ مبارک فرمائے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کی جو قانونی Transaction ہے، وہ بھی ایک دو مہینہ کے اندر ہو جائے گی اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔سودا ہو چکا ہے پختہ، رقم کا ایک حصہ ادا کر دیا گیا ہے اور دوسرا موجود ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ بھی وہاں جائزہ لینے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے تا کہ فرانس میں ایک نہیں بلکہ دوشن قائم کئے جائیں۔تو جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے ، اخلاص کا حال دیکھیں تبلیغ کا ذوق وشوق دیکھیں ،عبادتوں کا شوق دیکھیں، نئے نئے مشنز کا قیام دیکھیں، کسی لحاظ سے یہ سال برا گذرا ہے؟ امر واقع یہ ہے کہ اتنے غیر معمولی فضل ہر سمت سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں کہ اس کا شکر ادا کرنے کی طاقت ہم نہیں رکھتے۔یہ حق ادا نہیں ہوسکتا ہم سے۔اس لئے خدا کی رحمت کے سامنے سر جھکاتے ہوئے پرانے سال کی دہلیز سے گذریں اور نئے سال میں داخل ہوں۔اور خدا کی رحمت کے حضور یہ سر پھر بلند اٹھیں نہ کبھی۔کیونکہ جو خدا کے حضور شکرانہ کے طور پر اپنے سر جھکاتے ہیں، انہی کو ہمیشہ سر بلندیاں عطا ہوا کرتی ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا کے فضلوں میں بھی اسی طرح Acceleration آئے گی انشاء اللہ جتنی آپ اپنی کوششوں میں ایکسلا ریشن (Acceleration) کریں گے۔اللہ کی ہمیشہ سے یہ تقدیر جاری ہے کہ بندے کے تھوڑے کے مقابل پر اپنا بہت زیادہ ڈالتا ہے۔ایک غریب آدمی کچھ تھوڑ اسا جب پیش کیا کرتا ہے کسی امیر کو تو اتنا تو ہیں لوٹایا کرتا۔اتنا تواگر وہ لوٹائے تو یہ بڑا ہی گھٹیا کام سمجھا جاتا ہے اور بہت ہی حقیر بات سمجھی جاتی ہے۔تو اللہ نے اپنے بندوں کو اگر یہ فطرت عطا فرمائی ہے تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا رد عمل کس قسم کا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریق پر ہمیں سمجھایا اور خلاصہ اس کا یہ ہے کہ آپ 6