تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 1

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 جنوری 1985ء جو حیرت انگیز پاک تبدیلیاں جماعت میں پیدا ہو رہی ہیں، یہ تقویٰ من اللہ ہی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 04 جنوری 1985ء قوموں پر دو قسم کے حالات آتے ہیں۔ایک وہ جس میں تقویٰ محنت اور کسب سے کمایا جاتا ہے اور ایک وہ حالات جبکہ خدا کے فضل کی طرح خدا کی رحمت کی بارش کی طرح تقومی آسمان سے برستا ہے۔جماعت احمد یہ اس وقت ایسے ہی دور میں داخل ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے جو کرشمے ہم دیکھ رہے ہیں، جو نیکیاں دلوں کو عطا ہورہی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضوان کی محبت دلوں میں بڑھ رہی ہے، جو عبادات کا ذوق و شوق پیدا ہورہا ہے، جو حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں جماعت میں، اس میں جماعت کے کسب کا کوئی حصہ نہیں۔کسی انتظامی کوشش یا جد و جہد کا کوئی حصہ نہیں۔یہ تقویٰ من اللہ ہی ہے۔خالصہ آسمان سے خدا کے فرشتے وہ تقوی قلوب پر نازل فرمارہے ہیں، جس کے نتیجہ میں خداتعالی نئ نئی عظیم الشان عمارتوں کی خوشخبری دے رہا ہے۔ایسے عظیم الشان کاموں کی بنیادیں قائم کر رہا ہے اس تقویٰ کے اوپر، جس کے نتیجہ وو میں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بالکل نئے انقلابی دور میں داخل ہو جائے گی“۔گذشتہ سال کے حالات اور واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جہت سے، ہر سمت میں جماعت احمدیہ کا قدم آگے بڑھایا ہے۔کوئی ایک بھی شعبہ زندگی نہیں ہے، جس میں جماعت احمدیہ نے گذشتہ سال نمایاں ترقی نہ کی ہو۔کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے، جس میں جماعت احمدیہ نے نمایاں ترقی نہ کی ہو۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں جماعت کی ہر آزادی پہ پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں، وہاں بھی جماعت کی ہر تحریک نشو نما پارہی ہے اور پہلے سے آگے بڑھ رہی ہے۔۔۔۔جہاں تک جماعت کے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا تعلق ہے، ان کا تو شمار ممکن نہیں ہے۔اور جتنے شعبے جماعت کے کام کر رہے ہیں، ان سب کا ذکر کر کے اگر خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو وہ بھی ایک خطبہ جمعہ میں تو ممکن ہی نہیں ہے۔اس سے پہلے جب جلسہ سالانہ کی اجازت ہوتی تھی تو دوسرے دن کی تقریر میں جماعت احمدیہ کی مختلف جہت میں ترقیات کا ذکر ہوا کرتا تھا۔اور اس میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ انتہائی کوشش کے باوجود بھی پچھلے دو سالوں کا تجربہ تو یہ ہے کہ کبھی بھی پورے واقعات نوٹس (Notes) کے مطابق بیان نہیں کر سکا۔حالانکہ دو، تین گھنٹے کی کھلی تقریر 1