تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 847
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جنوری 1984ء وو بندگی کے ساتھ دعا کرنے کی عادت ڈالیں خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جنوری 1984ء گذشتہ خطبہ جمعہ میں، میں نے دعا کی ایک تحریک کی تھی۔احباب اسے بھولیں نہیں۔یہ بہت ہی بے صبری ہوگی بلکہ گستاخی ہوگی اور کبر اور انانیت ہوگی کہ ایک ہفتہ کی دعا کے بعد لوگ یہ سوچنے لگیں کہ اللہ نے دعا قبول نہیں کی، اس لئے اب دعا کرنا چھوڑ دو۔ایسے ایسے بزرگوں کے ذکر بھی ملتے ہیں، جنہوں نے دعائیں کرتے ہوئے عمر کا ایک حصہ گزار دیا اور خدا تعالیٰ ان کو نا منظوری کی اطلاع دیتا تھا۔اور وہ صبر سے قائم رہے۔یہاں تک کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سارے عرصہ کی تمام دعائیں قبول فرما لیں۔اس لئے بندہ بہنیں اور بندگی کے ساتھ دعا کرنے کی عادت ڈالیں اور بجز اور انکساری کے ساتھ دعائیں کرتے رہیں۔وہ مالک ہے، ہم اس کے بندے ہیں، وہ جب چاہتا ہے، ہماری دعا ئیں حیرت انگیز طور پر قبول فرما کر ہمارے دلوں کو خوشی سے بھر دیتا ہے۔اور جب دعائیں قبول نہیں کرتا تو ہمیں بتاتا ہے کہ میں مالک ہوں ہم بندے ہو، بجز اور بندگی کے مقام پر قائم رہو۔اس لئے رحمت باری کے لئے دعا نہیں چھوڑنی۔اور جیسا کہ میں نے کہا تھا، صرف اپنے ملک کے لئے بارش کی دعا نہ کریں بلکہ افریقی ممالک کے لئے بھی دعا کریں۔ان کی حالت بہت ہی دردناک ہے۔بی بی سی کی خبروں میں، میں نے سنا کہ آدھا افریقہ گویا بھوک سے مرنے کی راہ دیکھ رہا ہے۔یعنی افریقہ کی آدھی آبادی کے متعلق اب ماہرین کو یہ خطرہ نظر آ رہا ہے کہ اگر اب بارشیں نہ ہوئیں تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔غرض بڑی تکلیف دہ اور دردناک حالت ہے۔یہاں تک کہ لاکھوں جانور بھوک سے مر چکے ہیں اور بعض علاقوں میں جانوروں کے پنجروں کے پنجر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس لئے درد اور الحاح سے دعا ئیں جاری رکھیں۔جب دوسروں کا درد محسوس کریں گے تو اللہ آپ پر بھی زیادہ رحمتیں نازل فرمائے گا۔پس ان دعاؤں کو نہیں بھولنا اور نہیں چھوڑنا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بارشیں برسائے۔اور اسی طرح جیسا کہ میں نے تحریک کی تھی ، عرب بھائیوں کو بھی اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے یاد رکھیں اور اس دعا کو بھی بالکل نہیں چھوڑنا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے فضل ان پر بھی نازل ہونے لگیں“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 18 مارچ 1984 ء ) 847