تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 766
پیغام بر موقع صوبائی جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ تنزانیہ۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک وعدوں پر یقین کرتے ہوئے اپنی مساعی کو تیز کریں اور پیغام احمد بیت کو ہر دروازہ تک پہنچائیں۔تنزانیہ کے ہر فرد بشر تک اسے لے جائیں۔یہ ہر احمدی کا اٹل ایمان ہے کہ احمدیت اسلام کی حقیقی تعبیر کا نام ہے۔اور ہم غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں ، جب انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ امت واحدة کا تصور حقیقت کا روپ دھار لے گا۔لیکن ضروری ہے کہ اس سے پہلے آپ اپنے نیک ارادوں کو عمل کے سانچوں میں ڈھال دیں۔اور عقائد اور اعمال کے درمیان فاصلے نہ رہنے دیں۔یا درکھیں ، آپ کی ذمہ داری صرف اپنے ملک تک ہی محدود نہیں بلکہ اپنے ملک سے باہر پڑوسی ممالک تک بھی اسلام کا پیغام آپ ہی کو پہنچانا ہے۔جس طرح افراد پر ہمسایہ افراد کا حق ہوتا ہے، اسی طرح قوموں پر ان کی ہمسایہ قوموں کا حق ہوتا ہے۔لیکن آپ نے تو ابھی اپنے شہر کا بھی حق ادا نہیں کیا۔پس بیدار ہوں اور احساس ذمہ داری پیدا کریں۔بہت کام کرنے ہیں اور بہت سفر باقی ہیں۔حسب توفیق جو کچھ بن پڑے، اس راہ میں خرچ کر دیں۔یاد رکھیں، تبلیغ کے لیے ذاتی لگن بہت ضروری ہے۔اور دل جیتنے والے اخلاق کے بغیر کامیاب تبلیغ ممکن نہیں۔اپنی شخصیت ایسی جاذب نظر بنا ئیں ، آپ کا انداز ایسا دل لبھانے والا ہو، آپ کی باتیں ایسی میٹھی ہوں کہ جو بھی آپ کے قریب آئے ، پھر قریب تر ہوتا چلا جائے۔ذاتی تعلقات تبلیغ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور خدمت اور ایثاران تعلقات کو پروان چڑھاتے ہیں اور دعائیں ان کو پھل عطا کرتی ہیں۔پس دعاؤں سے بھی ہر گز غافل نہ ہوں۔اور یہ عزم کر لیں کہ آپ نے ہرگز روحانی لحاظ سے ایک بانجھ کی سی زندگی بسر نہیں کرنا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بکثرت روحانی اولاد عطا فرمائے۔اور آپ ایک ایک سے ہزار ہزار بنتے چلے جائیں۔اور آپ کی وسعتوں کے سامنے یہ دنیا تنگ ہو جائے۔خط و کتابت، ترسیل لٹریچر اور وقف عارضی بھی ایک بڑا ذریعہ ہیں۔بعض ممالک سے وقف عارضی کی بہت خوشکن رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔آپ کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ہو سکتا ہے، آپ کا چند دن کا وقف کسی ہمسایہ ملک کی قسمت جگادے اور اسے اسلام کی نعمت عطا کرنے کا موجب بن جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خدا کے حضور جھک جائیں اور جھکے رہیں اور عاجزانہ دعاؤں سے کبھی غافل نہ رہیں۔یہاں تک کہ اسی کے ہو جائیں اور ہر غیر اللہ سے بے نیاز ہو جائیں۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اس کے احکام پر بدل و جان عمل پیرا ہوں اور کوثر اس کی مخلوق سے ہمدردی اور خیر خواہی کریں۔صاحب حیثیت اپنے غریب بھائیوں سے محبت اور احسان کا 766