تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 603
تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء سے محفوظ رکھی جائے گی۔چنانچہ قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم کے بارہ میں خود قرآن کریم ہی میں یہ دھوئی بھی موجود ہے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة :04) یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج کہ دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین ہر رنگ میں کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر کے اس بات پر راضی ہو گیا ہوں کہ اب اسلام ہی تمہارا دین رہے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، کسی تعلیم کے دائمی ہونے کے لئے صرف یہی کافی نہیں کہ وہ کامل ہو بلکہ اس کی دائمی حفاظت کی ضمانت بھی ضروری ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس اہم عقلی تقاضے کو بھی پورا کرتا ہے اور قرآن کو نازل کرنے والا خدا غیر مبہم الفاظ میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (10:30) کہ ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔یعنی اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کرے گا اور اسے بگڑنے نہ دے گا۔چنانچہ قرآن کریم کی لفظی حفاظت کا اللہ نے یہ انتظام فرمایا کہ لاکھوں حفاظ ہر زمانے میں موجود رہے اور آج بھی موجود ہیں۔اور معنوی حفاظت کا یہ انتظام کیا کہ ہر صدی پر مجددین کا سلسلہ جاری فرمایا۔اور آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے ایک عظیم الشان مجدداور مصلح کے آنے کی خوشخبری دی، جسے خود اللہ تعالیٰ امام بنائے گا اور وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے تابع اسلام کے بارہ میں پیدا ہونے والے اختلافات کا فیصلہ کر کے تعلیم قرآن کی معنوی حفاظت کرے گا۔قرآن کریم کے بارہ میں کتاب محفوظ ہونے کا دعوی بھی اسلام کی ایک امتیازی شان ہے۔اسلام کے سوا ہمیں کوئی ایسامذہب نظر نہیں آتا، جس کی مذہبی کتب نے اپنی حفاظت کا دعوی کیا ہو یا عملاً وہ اسی طرح محفوظ ہوں ، جس طرح وہ نازل ہوئی تھیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے اس دعوئی کے حق میں کوئی قطعی تائیدی شہادت بھی ملتی ہے یا یہ محض ایک دعوی ہی ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بکثرت ایسے غیر مسلم محققین موجود ہیں، جن کی انتہائی کوشش اور جستجو کے باوجود وہ یہ دکھانے سے عاجز آ گئے کہ قرآن کریم میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے بعد کسی قسم کی کوئی تبدیلی کی گئی 603