تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 540

خطبہ جمعہ فرموده 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم وہاں شہنشاہ کسریٰ کی طرف سے سفیر آیا اور پرانے کسری کا بیٹا اس وقت تک کسری بن چکا تھا اور اس نے یہ پیغام بھیجا کہ ہم نے اپنے باپ کے مظالم اور گندگیوں کی وجہ سے اس کو قتل کر دیا ہے اور اب ہم شہنشاہ بنائے گئے ہیں۔پس جب خدا کسی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس میں عبرت کا یہ پہلو ہوتا ہے کہ اس ہلا کہ میں ایک غیر معمولی ذلت بھی پائی جاتی ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بھی اپنی نصرت اور اپنے پیار کے غیر معمولی نشان دکھائے ہیں۔اس لئے آپ کے لئے اس غیب پر ایمان لانا کوئی مشکل نہیں، جو بارہا آپ کے لئے حاضر بن چکا ہے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے دل کو اپنے رب کے لئے صاف کریں، اسے اپنے دل میں حاضر ہونے کے لئے درخواست کریں، دعوت دیں۔جس طرح ایک بڑے آدمی کو دعوت دی جاتی۔لیکن یہ ایک ایسی بڑی ہستی ہے کہ جو اپنی عظمت کے باوجود ادنیٰ سے ادنی دل میں اترنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔اس لئے انسان کی کوئی عاجزی، اس کا کوئی انکسار اس راہ میں حائل نہیں ہو سکتا کہ میں اس عظیم الشان ذات کو اپنے پاس آنے کی کیسے دعوت دوں، جو میرے مقابل پر اتنی عظمت رکھتا ہے کہ کوئی نسبت ہی قائم نہیں ہوسکتی؟ اس بات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دل کی عظمت در اصل دل کے حوصلے کی عظمت اور دل کی وسعت کی عظمت ہی ہوا کرتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کی اصل شان یہ ہے کہ وہ تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہونے کے باوجود اتنا وسیع حوصلہ رکھتا ہے کہ فرماتا ہے:۔وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ کہ میری رحمت ہر دوسری چیز پر حاوی ہوگئی ہے۔میری عظمتوں سے بالا ہے، میری رحمت اور میری شفقت۔پس آپ نے اس خدا کو بلانا ہے، جس کا اعلان ہے:۔وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ وہ تو آپ سے بڑھ کر آپ کے پاس آنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔چنانچہ حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خدا کو بلانے کا جو تجربہ کیا، اس کو اپنے ان پیارے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ بندہ جب خدا کی طرف ایک بالشت بڑھتا ہے تو خدا تعالیٰ کئی قدم اس کی طرف بڑھ جاتا ہے اور جب انسان قدم قدم اس کی طرف جاتا ہے تو وہ دوڑتا ہوا، اس کی طرف بڑھتا ہے۔پس در اصل یہ مضمون ہی وہی وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ والا مضمون ہے۔جس کی تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں۔540