تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 538

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہو جاتے ہیں اور جو دنیا ان کو عطا ہوتی ہے، اس میں پھر یہ دلچسپی نہیں لیتے۔اس کے لئے پھر مزید دنیا کو عطا کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور دنیا والوں کو بانٹنے لگ جاتے ہیں اور خود محض خدا کے فضلوں پر راضی ہو جاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم آغاز ہی میں اس مضمون کو اسی ترتیب سے بیان فرمارہا ہے:۔الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:04) کہ یہ لوگ جو ہدایت پانے والے ہیں، جو خدا کو پالیتے ہیں ، ان کی تین منازل ہیں۔پہلی شرط جیسا کہ میں نے بیان کی تھی ، وہ یہ ہے کہ یہ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔غیب پر ایمان لائے بغیر ان کو حاضر میں کچھ عطا نہیں ہوتا۔اس کے بعد ان کو دو جنتیں ملتی ہیں۔ایک عبادت کی جنت اور ایک رزق کی۔عبادت کی جنت میں تو یہ منہمک رہتے ہیں اور رزق سے یہ سلوک کرتے ہیں کہ وَمِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ جو کچھ پاتے چلے جاتے ہیں ، وہ سب کا سب اپنے لئے ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ بڑی فراخ دلی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا جاری سلسلہ ہوتا ہے۔نہ اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرنے سے اپنا ہاتھ روکتا ہے، نہ وہ اس خوف سے کہ یہ رزق ختم ہو جائے گا، خدا کی راہ میں خرچ سے اپنا ہاتھ روکتے ہیں۔پس یہ وہ نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں، جو ہدایت پر قائم ہونے والوں کو عطا ہوتے ہیں۔اور اس زادراہ کو لے کر وہ دنیا کو جیتنے کے لئے نکلتے ہیں۔پس اگر آپ مشرق کو خدا کے لئے جیتنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ پہلے آپ خود خدا کے بن جائیں۔وہ لوگ جو خدا کے ہو جاتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ غیر معمولی طاقتیں عطا فرماتا ہے۔وہ زیادہ علم نہ بھی رکھتے ہوں، زیادہ لمبے چوڑے دلائل پر قدرت نہ بھی رکھتے ہوں، تب بھی ان کی چھوٹی سی بات میں اللہ تعالی غیر معمولی اثر رکھ دیتا ہے۔پھر ان کو یہ شکوہ نہیں رہتا کہ ہم تو بہت تبلیغ کرتے ہیں، ہماری بات کو کوئی سنتا نہیں۔وہ تو تھوڑی بھی تبلیغ کریں تو لوگ سننے لگ جاتے ہیں۔وہ پیج اتفاقا بھی پھینک دیں تو اس بیج کو برکت ملتی ہے اور اس سے تناور درخت پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔یہ ہے تبلیغ کا وہ کامیاب رستہ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو سکھایا اور جس پر چل کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ اس رستہ کے سوا کامیابی کا اور کوئی رستہ نہیں ہے۔پس مشرق بھی بآسانی جیتا جا سکتا ہے۔خواہ کتنی بڑی مصیبتوں کے پہاڑ آپ کے سامنے ہوں، خواہ مقابل پر تعداد کے لحاظ سے اور قوت کے لحاظ سے کتنی ہی عظیم الشان قو میں نظر آتی ہوں گو یا ہمالہ کی 538