تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 441

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 129 اپریل 1983ء قرآن کریم میں بیان فرمودہ انبیاء کے رنگ ڈھنگ اختیار کریں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1983ء میں نے ایک گزشتہ خطبے میں جماعت کو ان انبیاء کے واقعات کی طرف توجہ دلائی تھی ، جن کو قرآن کریم نے ہمارے لئے نصیحت کے طور پر محفوظ کیا ہے۔قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ جو بھی تعلیم دیتا ہے یا جن باتوں سے منع فرماتا ہے، تاریخ مذاہب سے ان کی ایسی عملی مثالیں بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے، جو اپنے مضمون میں ایک خاص شان رکھتی ہیں۔پس کسی موضوع پر بھی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آپ قرآن کریم کی طرف رجوع کریں تو آپ کو نہ صرف تعلیم ملے گی بلکہ اس کے عملی نمونے بھی قرآن کریم میں نظر آئیں گے۔آج کل میں جماعت کو خاص طور پر داعی الی اللہ بنے کی تلقین کر رہا ہوں۔اسی سلسلے میں، میں نے نصیحت بالحق، جس کو تواصوا بالحق کہتے ہیں ، اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔اسی طرح نصیحت بالصبر کی طرف بھی متوجہ کیا تھا۔انبیاء کی تاریخ جو قرآن کریم میں محفوظ ملتی ہے، اس میں ان دونوں امور کے نہایت ہی اعلیٰ نمونے نظر آتے ہیں۔اور اگر ہم اس تاریخ پر اس نقطہ نگاہ سے نظر دوڑائیں کہ ہمیں بہترین نصیحت کے طریق معلوم ہوں نصیحت حق کے ساتھ کیسے کی جاتی ہے؟ کس بات کو نصیحت بالحق کہا جاتا ہے؟ اور صبر کے بہترین طریق معلوم ہوں تو ان قصص پر ہمیں غور کرتے رہنا چاہئے“۔۔پس اگر جماعت احمدیہ ابنیاء کی طرح اپنی باتوں میں اثر پیدا کرنا چاہتی ہے تو انبیاء کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کرے، جن کا ذکر قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو طریق نصیحت بیان فرمایا ہے، وہی بہتر ہے اور اسی میں سب سے زیادہ طاقت ہے۔کیونکہ صاف اور سیدھی باتوں سے زیادہ کسی دلیل میں وزن نہیں ہو سکتا۔خواہ وہ ظاہری لحاظ سے کتنی ہی شاندار نظر آئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین رنگ میں داعی الی اللہ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور انبیاء کی سنت کے مطابق ہمیں ایسی گہری اور وزنی باتیں کرنے کی توفیق دے، جن میں ہمارا تقویٰ شامل ہو۔اور ان کا انکار کرنا مخالف کے بس میں نہ ہو۔دل سے نکلیں اور دل میں ڈوب جائیں۔کوئی پردہ نہ ہو، جو درمیان میں حائل ہو سکے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی ہی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔مطبوعه روزنامه الفضل (09 اگست 1983ء) 441