تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 284
خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جب کون کی بات شروع ہوگی تو ذہن مربیوں کی طرف چلا جائے گا کہ کیا اتنے مربی موجود بھی ہیں، جو ان قوموں کی زبانیں جانتے ہوں؟ اور اگر نہیں ہیں تو پھر ہمیں دو قسم کے زبان دان تیار کرنے پڑیں گے۔ایک تصنیف کے کام کے لئے اور ایک تبلیغ کے کام کے لئے۔دونوں آپس میں متبادل بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن تصنیف کے بعض خاص تقاضے ہیں۔اسی طرح تبلیغ کے بعض خاص تقاضے ہیں۔ہر انسان الگ الگ مزاج رکھتا ہے اور وہ ہر تقاضے کو پورا بھی نہیں کر سکتا۔تو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ اس وقت ہمارے پاس کتنے مربی یا واقفین ہیں؟ کون اس بات کا اہل ہے کہ اٹالین زبان سیکھے اور پھر تصنیف کا کام کرے؟ اور کون اس بات کا اہل ہے کہ وہ اٹلی میں تبلیغ کا کام کرے؟ پھر یہ کہ ان واقفین کی تیاری کہاں کہاں ہوگی ؟ جب آپ اس پہلو سے دیکھتے ہیں تو اتنے بڑے خلا سامنے ابھر آتے ہیں کہ انسان لرزنے لگتا ہے کہ اتنے بڑے اور وسیع تقاضوں کو کیسے پورا کر سکوں گا ؟ پھر شین یعنی روسی قوم ہے، جو دو عظیم طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت ہے۔پہلے تو اور بہت ساری طاقتیں بھی سپر یعنی عظیم کہلایا کرتی تھیں۔کسی زمانے میں پانچ طاقتیں تھیں۔پھر تین رہ گئیں۔اب صرف دو سپر طاقتیں رہ گئی ہیں۔ایک سپر طاقت امریکہ ہے اور ایک رشیا۔روس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کشف ہے کہ میں روس میں اپنی جماعت کو ریت کے ذروں کی طرف پھیلا ہوادیکھتا ہوں۔( تذکره صفحه 813 طبع سوم ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان الفاظ میں خدا کا جو وعدہ ہے، اسے بہر حال کسی نے پورا کرنا ہے۔اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم نے ہی اسے پورا کرنا ہے۔لیکن کس طرح پورا کریں گے جبکہ آج تک ہمارے پاس رشین یعنی روسی زبان میں کوئی لٹریچر ہی نہیں ہے؟ جو خلا سامنے آتے ہیں، یہ بھی علیحدہ علیحدہ ڈیپارٹمنٹ کا تقاضا کر رہے ہیں۔کہیں رشین ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑے گا، کہیں portuguese یعنی پرتگالی ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑے گا اور کہیں اٹالین ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑے گا۔اس کے لئے ہمارے پاس کتنے آدمی ہیں، وسائل کتنے ہیں، زبانیں سکھانے میں کتنا وقت لگے گا؟ کتنی ہم میں صبر کی طاقت ہے اور اس کام کے سلسلہ میں پہلے کیا کیا جائے؟ یہ سارے امور ایسے ہیں کہ جب آپ ان پر غور کریں ، تب پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے بے بس اور بے حیثیت لوگ ہیں۔اور اس احساس کے ساتھ ہی دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ان دعاؤں کی طرف ، جو اس کامل یقین سے پھوٹتی ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں۔اتنے بڑے کاموں کے کرنے کا دعوی لے کر نکلنے والی 284