تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 278

پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ سری لنکا تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اسے چڑھنے سے روکے رہے، جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم سارے آراموں کو اس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لئے ساری ذلتیں قبول نہ کرلیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا“۔فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 13 صفحه 10) پس آپ دعاؤں، قربانیوں، محنت اور جانفشانی سے اس دن کو قریب لانے کی سعی فرماویں، جب خدا کی یہ تقدیر پوری ہو۔ہم نے لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا ہے، دلائل اور نیک نمونہ سے۔مذہب کی اشاعت کے لئے کسی تشدد اور جبر کی ضرورت نہیں۔دلوں میں ایمان کا بیج بونے کے لئے ، نیک تبدیلی کے لئے سختی کی نہیں ، نرمی، محبت اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور دعوت اسلام کے لئے قرآن نے ہمیں ایک بنیادی ہدایت دی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے:۔ادْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل :125) کہ اپنے رب کی راہ کی طرف دانائی سے بلاؤ۔اس کے احکام کی فلاسفی لوگوں کو جتلاؤ۔اور اس طرح نصیحت کرو کہ لوگوں کے دل تمہاری موعظ کی طرف مائل ہوں۔احسن طور پر خدا کا پیغام پہنچاؤ۔شیریں کلامی اور دلائل، جب ان کے ساتھ اچھے اخلاق ہوں، اثر پیدا کئے بغیر نہیں رہتے۔آپ خاص طور پر بدھوں میں تبلیغ کی طرف توجہ کریں ، انہیں اسلامی نجات کی فلاسفی اور اس کی اعلیٰ تعلیم سے آگاہ کریں۔ابھی تک بدھوں میں تبلیغ کی طرف ہم نے توجہ نہیں کی۔اسلام کی تعلیم عالمگیر ، اہم گیر ہے اور آفاقی ہے، پھر کوئی وجہ نہیں کہ اپنے بدھ بھائیوں کی طرف ہم توجہ نہ کریں۔اگر ہم انہیں یہ باور کر اسکیں کہ روح کی شناختی اور خدا کا قرب اب صرف اسلام میں ہی ہے تو انشاء اللہ وہ لوگ بھی اسلام کی طرف توجہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ آپ پر اپنے فضلوں کی بارش نازل فرمائے۔آپ کی مساعی میں برکت عطا فرمائے۔آپ میں باہم الفت اور مودت پیدا فرمائے۔جس کی طرف کشتی نوح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے۔ایک دوسروں کے قصوروں اور کوتاہیوں کو معاف کرو۔بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلیل کرو۔نفس کی فربہی چھوڑ دو۔اور ایسے ہو جاؤ، جیسے ایک ماں کے پیٹ سے نکلے ہوئے دو بھائی۔278