تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 220
خطاب فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم کو اس تباہی سے بچانا ہے۔پس ہمیں ان دیوانوں کی ضرورت ہے، جو دنیا کی چمک دمک کی پروانہ کریں بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو رد کر دیں، اس کو دھتکار دیں اور کہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں ، خدا کے حضور حاضر ہوں گے، تیری طرف ہرگز مائل نہیں ہوں گے۔غرض انصار اللہ کو عمر کے لحاظ سے ایک ایسا مقام حاصل ہے کہ اگر وہ اپنے اپنے ماحول میں خدام کو وقف زندگی کے لئے آمادہ کریں، ان کے دلوں میں غلبہ اسلام کے ولولے پیدا کریں، خدمت دین کی امنگیں پیدا کریں تو یہ بھی ان کی طرف سے بہت بڑی خدمت کے مترادف ہے۔تیسرے نئی نئی بد رسوم کے خلاف جہاد کا کام ہے، جسے میں خصوصیت کے ساتھ انصار اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔تحریک جدید کے بہت سے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ دوست اپنی زندگی کو تعیش سے بچا کر سادگی کی طرف لے آئیں۔دنیا نے آج مختلف زیتوں اور تعیش اور کئی قسم کے لہو ولعب کے سامان ایجاد کر لئے ہیں۔اگر انسان ان میں مبتلا ہو جائے یا کوئی قوم یا معاشرہ ان میں مبتلا ہو جائے تو پھر ان سے اپنا دامن چھڑا کر اپنے آپ کو خدمت کے کاموں کی طرف مائل کرنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے۔اس لئے خدمت اسلام کی جس راہ پر ہم گامزن ہیں، اس کا یہ تقاضا ہے کہ حرام تو حرام بعض حلال چیزیں بھی ہم چھوڑ دیں تا کہ وہ معاشرہ پیدا کیا جاسکے، جو ہمارے مقاصد کے حصول میں محمد ہو۔ہر ماحول میں ہر قسم کا پھل دار درخت نہیں لگا کرتا۔بعض جگہ بعض زمینوں میں بعض آب و ہوا میں بعض قسم کے پودے لگتے ہیں اور نشو و نما پاتے ہیں۔لیکن بعض دوسری قسم کی آب و ہوا میں وہی پودے چند دن بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔پس ایسی قو میں، جنہوں نے عظیم الشان کام کرنے ہوں، جنہوں نے عظیم الشان خدمات بجالانی ہوں، جنہوں نے اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنی ہوں، ان کے معاشرہ میں لازما سادگی کی آب و ہوا ہونی چاہئے۔ورنہ عیش کی آب و ہوا میں پلنے والے پودے سادگی کی آب و ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔اور سادگی کی آب و ہوا میں پلنے والے تعیش کی آب و ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔پس ہمیں اپنا ایک ماحول پیدا کرنا پڑے گا، اپنی ایک فضا پیدا کرنی پڑے گی۔جس ملک میں بھی ہم رہیں، اس ملک کی فضا سے اس حد تک مختلف ہوگی، جس میں مذہبی اقدار زیادہ ہوں گی، اس میں سنجیدگی زیادہ ہوگی ، اس میں سادگی زیادہ ہوگی، اس میں زندگی کی لذتوں کے رخ مختلف ہوں گے۔لذتیں تو پھر بھی ہم حاصل کرتے رہیں گے۔مگر یہ لذتیں ، اعلیٰ لذات ہوں گی۔یہ وہ لذتیں ہوں گی، جو قربانی کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں، جو خدمت کے ن میں حاصل ہوتی ہیں ، عظمت کردار کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لذتیں دنیا کی یل دنیا کی 220