تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 133
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک خطاب فرموده 16 اکتوبر 1982ء ذرائع ہیں؟ مرکزی مجلس میں کتنی خواتین ہیں، ان باتوں میں شامل ہونے کے لئے ؟ اس لئے آپ اندازہ کر کے مجھے خود بتائیں کہ کتنے مہینے کے اندر انشاء اللہ تعالی آپ اس سکیم کو عملی جامہ پہنا دیں گی؟ لیکن میری ایک نصیحت آپ کو بھی ہے، لجنہ کی ہر شاخ کو بھی، یہ طریق کار بدل لیں کہ سوائے چند کارکنات کے، جو خلص مانی جاتی ہیں اور کسی کے اوپر ذمہ داری ڈالی ہی نہیں جاتی۔یہ بہت بڑے نقصان کا سودا ہے۔ٹیم بڑھانی چاہیے۔جتنی زیادہ ٹیمیں بڑھائی جائیں، اتنا ہی زیادہ سلسلے کا کام آسان ہوگا، اتناہی زیادہ بابرکت ہوگا۔عورتوں میں چونکہ مردوں کی نسبت حسد کا مادہ بھی زیادہ ہے، رشک کا مادہ بھی زیادہ ہے، اس لئے بعض دفعہ یہ نقصان بھی پہنچ جاتا ہے کہ بعض لجنات کی ممبرات کہنے لگ جاتی ہیں کہ سب کچھ ان کے سپر د ہے، ہمیں اس سے کیا؟ جو کام ہوتا ہے، وہی کر لیتی ہیں۔سب کچھ انہیں کا ہے۔اور پھر خواہ مخواہ لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔بعض ملکوں میں، میں نے دیکھا ہے اور مجھے انتہائی دکھ پہنچا کہ لجنہ آپس میں اس طرح لڑ رہی ہیں کہ جس طرح دود شمنوں کے کیمپ لگے ہوتے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔اگر تم آپس میں لڑو گی تو دین کی خدمت کون کرے گا؟ اور دین کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے کہاں جان باقی رہ جائے گی ؟ اس لئے ہر گز لڑائی نہیں کرنی اور اس قسم کے مواقع نہ دیں، جن کے نتیجہ میں بعض ممبرات یہ سمجھیں کہ ہم سے اور سلوک ہورہا ہے اور دوسروں سے اور سلوک ہو رہا ہے۔خدمت کی راہیں سب کے لئے کھلی ہیں، کوئی اس سے محروم نہیں کیا جائے گا۔اور لجنہ کا مفاد اس میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ نئی کارکنات کو شامل کر کے اس پر ذمہ داریاں ڈالی جائیں اور ان کی تربیت کی جائے۔اس سے بہتر تربیت کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا کہ دین کی خدمت کا تھوڑا تھوڑ ا موقع دینا شروع کرو۔اگر کوئی بے پردہ ہے، اگر کوئی اسلامی تہذیب کی باغی ہو چکی ہے اور کھلے بندوں اس طرح پھرتی ہے کہ اس کو کوئی شرم حیا نہیں کہ میں کس کی نمائندہ ہوں؟ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نام پر کیا داغ لگارہی ہوں؟ تو اس کو کام نہیں دینا۔وہ ہرگز میرے ذہن میں نہیں ہے۔لیکن عام سادہ ہماری پیاری بیٹیاں ہیں، بچیاں، بیبیاں، بہت مخلص خواتین ہیں جماعت احمدیہ کی۔ان کو ذرا سا اشارہ کرو، وہ جان نچھاور کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔ان پر بدظنیاں نہ کریں۔ان کے حوصلے بڑھائیں۔ان کو پروگرام میں شامل کریں اور رفتہ رفتہ ہمیں بڑھائیں۔چنانچہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہر شعبہ کے ساتھ ربوہ کی ہیں ہیں، پچیس پچیس لڑکیاں شامل ہوسکتی ہیں۔آپ ایسے نام مانگ سکتی ہیں، جن میں خدمت کا جذبہ ہو۔ان میں سے چنیں۔ہر شخص کو اس کی ذہنی ار قلبی کیفیت اور قابلیت کے مطابق کام دیں تو جو کام مشکل نظر آرہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انشاء 133