تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 910
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1981ء حضور نے فرمایا:۔تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم تم کچھ فکر نہ کرو۔دنیا کی مخالفت بادلوں کی ٹکڑیوں کی شکل میں آتی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ اسلام کا نور اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن آسمان پر اس طرح چمکے گا کہ اندھیرے پیدا کرنے والی کالی بدلیوں کا نشان بھی کسی کو نظر نہیں آئے گا۔انشاء اللہ۔حضور رحمہ اللہ نے قدرت ثانیہ کے دور ثالثہ کے عظیم الہی منصوبے، نصرت جہاں سکیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اس سکیم کے تحت اب تک مغربی افریقہ کے ممالک میں 21 سکول کھولے جاچکے ہیں۔جو اچھے طالب علم اور اچھے کھلاڑی اور اچھے انسان پیدا کر رہے ہیں۔باپ کہتا ہے کہ بچوں کو احمدیہ میں داخل کروانا ہے اور بیٹا بھی کہتا ہے کہ میں نے احمدیہ میں داخل ہونا ہے۔بڑے بڑے سیاسی لیڈر ، سوشل لیڈر اور بڑے بڑے ماہر اقتصادیات مانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے سکولوں نے علمی لحاظ سے باقی سکولوں میں مابہ الامتیاز پیدا کر دیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ بعض دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ نصرت جہاں منصوبے کی رقم کو ریزرو میں رکھ دیا جائے اور اس سے نفع لے کر کام کیا جائے۔لیکن میں نے خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس سے جو تجارت کی اس میں اس نے بے انداز برکت ڈالی۔اس سکیم کے تحت ہمارا ابتدائی سرمایہ 3 5 لاکھ روپے تھا۔صرف اس سال نصرت جہاں کا بجٹ 3 کروڑ روپے سے زائد ہے اور ریز رو پیسے بھی باقی پڑے ہوئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ مجھے یہ سوچنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ میں تو حیران ہوں اور حیرت میں گم ہوں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے ذرہ ناچیز کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اعلان کر دیا کہ اس کے ذریعے سے میں دنیا میں انقلاب لا کر دکھاؤں گا“۔910 مطبوعه روزنامه الفضل 20 جنوری 1982ء)