تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 864 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 864

خطاب فرمودہ 23اکتوبر 1981ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم دم آگے آجاتی تھی۔مسلمان صبح سے شام تک لڑتے تھے اور راتوں کو اٹھ کے تہجد پڑھتے تھے۔اگر جسمانی طاقت ان میں نہ ہوتی تو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح ان کے منہ سے بھی یہ نکلتا کہ دل اور روح تو چاہتی ہے کہ ایسا کرو لیکن جسم روح اور دل کا ساتھ نہیں دیتا۔مسلمانوں کی روح اور ان کے دل جو تھے ، جو وہ مطالبہ کر رہے تھے، ان کے جسم ان کا ساتھ دے رہے تھے۔کافی لمبا عرصہ تک اس قسم کے جسم انہوں نے بنائے رکھے اپنے محنت کش، جفاکش، جھکتے ہی نہیں تھے۔پتہ نہیں کس چیز کے بنے ہوئے تھے۔ایک واقعہ میں نے پڑھا۔جب نپولین ایک جگہ جنگ لڑ رہے تھے۔ان کا کیمپ کوئی پچانوے میل محاذ جنگ سے پیچھے تھا۔پہاڑی علاقہ تھا، بہت کٹھن راستے ، ان کو ایک دن بہت زبردست فتح حاصل ہوئی، محاذ پرلڑنے والے جرنیل نے تفصیلی رپورٹ لکھی اور صبحکو ایک جرنیل کو بلایا، اس کو کہا کہ پیر پورٹ فوری طور پر نپولین کے ہاتھ میں پہنچنی چاہیے، کیونکہ عظیم فتح ہمیں ہوئی ہے۔اور یہ سامنے عرب گھوڑا ہے، اس پر سوار ہو جاؤ اور دوڑو۔پہچانوے میل پہاڑی راستوں پر عرب گھوڑے کو دوڑا تا ہوا جب وہ نپولین کے کیمپ پہ پہنچا تو نیچے اترا اور جس افسر کی ذمہ داری تھی ، رپورٹ لینا، اس نے اس کے ہاتھ میں رپورٹ پکڑائی اور خود مر کے لر پڑا۔اور عرب گھوڑا، جس کی نسل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تربیت سے تربیت پائی تھی ، وہ اپنا پاؤں زمین پر مار رہا تھا کہ ابھی میں تھکا نہیں، مجھے اور چلاؤ۔اتنا فرق۔اسی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک عرب گھوڑی ایک سو ستر میل بغیر کھائے پیئے کے سرپٹ دوڑتی چلی گئی۔اور یہ واقعہ ہے، کہانی نہیں۔بھائی دس، بارہ سال کا اپنے بھائی کے سر پر سیب رکھ کے تیر سے اڑا دیتا تھا۔اس وقت میں نشانے کی بات نہیں کر رہا۔میں اس مہارت کے حصول کے لئے جو محنت اسے کرنی پڑی، اس کی بات کر رہا ہوں۔سارا سارا دن وہ اس مہارت کو حاصل کرنے میں لگا تا تھا۔اب آنے والے زمانہ میں اپنے بچوں کو سنبھالیں ، انصار اور خدام الاحمدیہ۔اس کی عملاً کئی شکلیں ہوں گی۔جتنی توفیق ملی، (ویسے تو مضمون لمبا ہے ) بتاؤں گا۔دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند جماعت احمدیہ کو ہونا چاہیے، اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔جو موٹی موٹی باتیں ہیں صحت مند ہونے کے لئے وہ یہ ہیں کہ طیب غذا ہو۔طیب غذا کا مطلب ہے کہ جو اچھی بھی ہو اور اس کے جسم سے مطابقت بھی کھاتی ہو۔ہر غذا ہر آدمی کے لئے ٹھیک نہیں ، طیب نہیں۔دوسرے یہ کہ متوازن غذا ہو۔خالی آٹا کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی گوشت کھانے سے ت اچھی نہیں رہتی۔خالی ترکاریاں کھانے سے صحت اچھی نہیں رہتی۔خالی پھل کھانے سے صحت اچھی 864