تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 841 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 841

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ہوگئے، خطبہ جمعہ فرمود 220 مئی 1981ء ہورہے ہیں۔بڑی جلدی میں کوشش کر رہا ہوں اور ہو جائیں۔فرانسیسی زبان میں آگیا Introduction To The Study of Holy Quran ریاچه قرآن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو لکھا ہے، وہ دیباچہ قرآن کریم کے طور پر بھی ہم استعمال کرتے ہیں۔یعنی بعض قرآن کریم کے تراجم کے ساتھ اس کو۔مثلاً انگریزی کا ترجمہ ہے، وہ دیباچہ بھی لگا دیا۔اور علیحدہ ایک کتاب ہے، قریباً تین سو، اٹھائیں صفحے کی۔پوری ایک کتاب بن جاتی ہے ناں۔اب اس کا فرانسیسی میں ترجمہ ہو گیا۔اس ترجمے کو میں نے بعض احمدیوں کے ذریعے کہ اس کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ ایک فرنچ بولنے والے، فرانسیسی زبان بولنے والے ملک کے مسلمان ایمبیسیڈر ( Ambassador) سے واقفیت تھی ایک احمدی کی، میں نے کہا، تم ان کو دو، ان سے رائے لو اور کچھ نہ کہنا، فتنہ نہیں پیدا کرنا۔صرف دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اتنی عجیب ہے یہ کتاب کہ جب میں نے پڑھنی شروع کی تو جب تک ختم نہیں کی ، دوسری کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔اور زبان بڑی اچھی ہے۔ان کے خیال میں دو، ایک جگہ ذرازبان کی کمزوری ہے لیکن وہ تو ان کا خیال تھا۔میں نے کہا تھا، پوچھ لیں اگر واقعہ میں کمزوری ہے تو دور کریں گے اس کو ، انشاء اللہ تعالی۔ایک یہاں کلاسیں ہو رہی ہیں، مختلف جگہوں پہ مختلف زبانوں کی۔لاہور میں ایک کلاس فرانسیسی کی ہے۔اور اس میں پڑھانے والے غالبا فرنچ ایمبیسی کے ماتحت ہیں یہ سارے۔ہر ایمبیسی اپنی اپنی زبانوں کے متعلق کرتی ہے کچھ۔تو ایک بوڑھے پروفیسر پڑھا رہے تھے، جو کیتھولک تھے۔بعض احمدی بھی وہاں پڑھ رہے ہیں۔وہ کیتھولک کہتا تھا، مسلمان بچیوں سے بات کرتے ہوئے کہ تم مجھے نہیں مسلمان بنا سکتیں، میں بڑا پکا کیتھولک ہوں۔تو ایک احمدی شاگرد نے اسے یہی دیباچہ قرآن فرانسیسی میں دے دیا۔اور دو، تین مہینے کے بعد پوچھا تو کہنے لگا، یہ تو بڑی عجیب کتاب ہے۔اور چونکہ وہ کیتھولک اور متعصب تھا، اس نے اس کو شروع کیا، اس حصے سے بیچ میں سے، جہاں اسلام کا عیسائیت سے موازنہ کیا ہے ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔اور اس نے کہا، یہ پڑھ لوں گا تو پھر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھوں گا۔لیکن وہ بڑا Excited تھا۔اس نے کہا، یہ تو عجیب کتاب ہے، جو تم نے مجھے دی ہے۔لیکن آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ یہ آپ پاکستانیوں نے نہیں شائع کی، نہ آپ کے پیسے سے شائع کی گئی ہے۔کیونکہ پیسہ تو ہم یہاں سے باہر بھیج ہی نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے باہر ایسے انتظام کر دئیے۔لیکن جو کام پاکستان نے کرنے ہیں، وہ ضرورتیں تو بہر حال پاکستانیوں نے پوری کرنی ہیں۔اور اس تمہید کے بعد اب میں اس مضمون کے اوپر آ رہا ہوں ، یہ سال جو ہمارا ہے، پندرہویں صدی کا پہلا سال، اس میں ایک عجیب خصوصیت اور پیدا ہوگئی کہ پہلا سال، جو آیا، بیچ میں، یعنی اس صدی میں 841