تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 784
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم - حضور نے اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ " مثلا کھانا ہے۔آپ کہیں گے، ہر شخص کھانا کھا سکتا ہے۔مگر میں یہ کہ ہر شخص نہیں کہہ سکتا کہ وہ کھانا کیسے کھاتا ہے؟ کیونکہ قرآن نے کہا ہے کہ ہر شخص صحیح طریقے سے کھانا نہیں کھا سکتا۔مثلا بنیئے ہیں، سارا دن بیٹھے کھاتے رہتے ہیں اور ان کی توند نکل آتی ہے۔اور مٹھائی کی دکان پر بیٹھے مٹھائی کھاتے کھاتے مرجاتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ”یہ کوئی زندگی ہے کہ انسان مٹھائی کھاتے کھاتے مر جائے۔زندگی تو یہ ہے کہ مرتے مرتے خدا کی جنتوں میں پہنچ جائے“۔حضور نے فرمایا کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ دنیوی علوم ، دنیا کی خاطر سیکھو۔اور نہ قرآن یہ کہتا ہے کہ دینی علوم اس طرح سیکھو کہ نرے ملا بن جاؤ۔بلکہ قرآن کے اسرار ورموز اس لئے سیکھو کہ خدا کی عظمت ، جلال، احسان ، قدرت، رحیمیت اور رحمانیت کے جلوے دیکھ سکو۔جس طرح وہ غفور ہو کر معاف کرتا ہے، جس طرح وہ حفیظ ہو کر اشیاء کی حفاظت کرتا ہے۔یہ سب دیکھو تو دنیا بھی اور آخرت بھی آپ کے لئے جنت بن جائے گی۔حضور نے فرمایا کہ اس مقصد کے لئے میں نے یہ علیمی منصوبہ شروع کیا ہے“۔حضور نے فرمایا کہ ”میں نے یہ کہا ہے کہ قرآن سیکھنا، اس لئے ضروری ہے تا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کا علم ہو سکے۔اور ان جلووں کا علم ہو گا تو قرآن آئے گا، ورنہ تھوڑا آئے گا۔اور جتنا جتنا علم صفات باری کے متعلق حاصل ہوگا، جتنی جتنی معرفت خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی متعلق بڑھتی جائے گی۔اور اس بارے میں انسان کا دنیاوی علم جتنا بڑھتا جائے گا، اتنا ہی وہ اس قابل ہو سکے گا کہ خدا تعالیٰ کی معرفت کی گہرائی میں جائے اور اس میں سے موتی نکال کے لائے اور اس سے دنیا کے فائدے کے سامان پیدا کرئے“۔حضور نے فرمایا کہ علم سیکھا جاتا ہے تحقیق سے اور مشاہدہ سے کسی دوسرے کی تحقیق کے مشاہدے ومطالعہ سے اور نے پر تجربہ کر کے۔مثلاً الرجی کا علم ہے، بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ ان کو کس چیز سے الرجی ہے؟ جب وہ دو کوئی ایسی چیز کھاتے ہیں، جس سے ان کو الرجی کی شکایت ہو تو پھر انہیں الرجی کی وجہ کا پتہ چلتا ہے۔784