تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page viii of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page viii

مشرکین کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی توفیق دی۔لاکھوں ! ایک یا دو نہیں، سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں بلکہ صرف افریقہ میں ہی لاکھوں عیسائی اور مشرک مسلمان ہوئے لیکن دنی لاکھوں افراد پر تو مشتمل نہیں۔وہ تو کروڑہا افراد پر کئی ارب افراد پر مشتمل ہے۔اور ان سب کو اسلام کی طرف لانا اور پیشگوئیوں کے مطابق بڑے تھوڑے سے وقت میں لانا ، بنی نوع انسان کو جن کی اتنی بڑی تعداد ہے اور ان کے پھیلاؤ میں اتنی وسعت ہے کہ وہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن یہ ہو گا ضرور اور ہو گا اس تھوڑے سے وقت میں“۔خطبہ جمعہ فرمود : 129 اکتوبر 1976 ء ) تحریک جدید انجمن احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔’اب تو تحریک جدید کے مشن اور اس کے تحت قائم ہونے والی جماعت ہائے احمد یہ قریباً ساری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ایک وقت تھا، یعنی جب قیام پاکستان سے بہت پہلے، جب تحریک جدید کا سارا بار ہندوستان کی جماعتوں پر تھا۔لیکن آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی۔جس کے نتیجہ میں بیرونی ملکوں میں مشنوں اور جماعتوں کا قیام عمل میں آیا؟ وہ مشن اور جماعتیں خود کفیل ہوتے چلے گئے۔یہ انقلابی تبدیلی اس تحریک کی وجہ سے پیدا ہوئی ، جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید “ کے نام سے جاری فرمایا۔تحریک جدید کی مساعی کے نتیجہ میں مشرق و مغرب کے بیرونی ممالک میں ایسی مخلص اور فدائی روحیں پیدا ہو گئیں ہیں کہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اخلاص یہاں کے احمدیوں میں زیادہ ہے یا وہاں کے احمدیوں میں زیادہ ہے۔66 (خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1977 ء ) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت اور جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض کو پورا کرنے کے لئے ہی تحریک جدید کا اجرا کیا گیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس تحریک کے تمام مطالبات پر عمل کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں، جس غرض کے لئے ہم احمدی ہوئے ہیں۔آمین