تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 702 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 702

خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اکتوبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم تھی۔یہ آہستہ آہستہ ترقی دو شکلوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ایک آہستہ آہستہ دنیا میں پھیلتی چلی جارہی تھی۔شروع میں تو قادیان یا چند اور شہر تھے، جو فیض پارہے تھے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کے ایک عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ۔پھر پنجاب میں پھیلنی شروع ہوئی۔پھر پنجاب سے نکل کے ہندوستان میں داخل ہوئی ، سارے ہندوستان میں۔پھر ہندوستان سے نکلی اور باہر کے ملکوں میں پھیلنے لگی۔اس طرح جس طرح کوئی اکا دکا بیچ ہوا میں اڑا کے کسی خطہ ارض میں لے جاتی ہیں اور وہاں ایک نئی قسم کی روئیدگی پیدا ہو جاتی ہے، اس طرح یہ خدا سے اور خدا کی مخلوق سے پیار کرنے والی جماعت قائم ہوئی۔کہیں ایک خاندان احمدی ہو گیا، کہیں دو ہو گئے۔مثلا افریقہ کے ایک ملک میں صرف ایک احمدی 1930 ء سے بھی پہلے کے تھے۔نائیجیریا میں اس ملک کے سربراہ گئے تو اس احمدی خاندان کے ایک فرد ان کے اس ڈیلیکیشن (Delegation) میں شامل تھے۔اور جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، وہاں نائیجیریا کی جماعت نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ ہر کمرے میں رکھا ہوا تھا۔اور اس پر اپنے مشن کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر بھی درج کیا ہوا تھا۔انہوں نے دیکھا اور بڑے حیران ہوئے۔فون کیا مشن کو اور کہا کہ مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ جماعت اتنی ترقی کر گئی۔اور انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد احمد کی ہوئے تھے، ان کی وفات ہوگئی 1940ء میں اور اس کے بعد ہمارا ملاپ مرکز سے نہیں رہا۔لیکن ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے دلوں میں انہوں نے جماعت کو اس مضبوطی سے قائم کیا تھا کہ اسے نہیں ہم چھوڑ سکتے تھے۔اور اس پر قائم ہیں۔اسی طرح اور بہت ساری جگہوں پر احمدی ہو گئے۔جماعت پھر وہاں بڑھنی شروع ہوئی۔شروع میں جو ہمارے مبلغ گئے ہیں، وہ گاؤں گاؤں پھرے۔ایسا واقعہ بھی انہیں پیش آیا کہ شام کو ایک گاؤں نے انکار کیا، اپنے پاس رکھنے سے۔دوسرے گاؤں نے انکار کیا، تیسرے گاؤں نے انکار کیا۔کوئی احمدی نہیں تھا، اس علاقے میں۔چوتھے گاؤں نے، پانچویں گاؤں نے۔پھر کوئی شریف آدمی اگلے گاؤں میں ملا اور کہا، ٹھیک ہے، ہمارے پاس رہ جاؤ مہمان۔کتابیں سر پر اٹھائی ہوئی تھیں ٹھہر گئے۔وہاں ان سے تبادلہ خیال ہوا اور ان کو مسائل بتائے ، ان کو حوالے دکھائے ، قرآن کریم کی آیات ان کے سامنے پیش کیں، ان کو ضرورت زمانہ سے آگاہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کھولا اور وہ احمدی ہو گئے۔اور تحریک جدید کے اجرا سے بھی پہلے جو تھوڑی بہت کوشش ہوئی، اس کا نتیجہ یہی تھا کہ بعض ملکوں میں احمدیت چلی گئی۔اور غانا میں، میں ایک ایسے بزرگ احمدی کی قبر پہ بھی دعا کے لئے گیا، جن کی وفات 1926ء میں ہوئی تھی۔جنہوں نے احمدیت کی خاطر بڑے دکھ اٹھائے تھے، بڑی مصیبتیں سہی تھیں۔اور ہمارے مبلغ کے ساتھ 702