تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 52
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم تھیں اور نہ آسکتی تھیں۔بس یہ خواہش تھی کہ نہ صرف یہ کہ صد سالہ جشن منایا جائے بلکہ جماعت احمدیہ کی زندگی میں جب دوسری صدی شروع ہو اور وہ صدی جیسا کہ میں گذشتہ خطبہ جمعہ میں بتا چکا ہوں، غلبہ اسلام کی صدی ہے، اس لئے اس کا استقبال کرنے ، اس کے کاموں کی بنیادیں رکھنے اور ان کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اگلے پندرہ سولہ سال میں انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔جلسہ سالانہ کے بعد بعض باتیں علم میں آئیں۔لیکن جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ پر بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی تو اس منصوبہ کی تفاصیل انشاء اللہ مجلس مشاورت میں جماعت کے سامنے رکھوں گا۔اس لئے یہ منصوبہ، جو ایک خاکہ کی صورت میں پیش کیا گیا تھا، اس کے متعلق تفصیلی باتیں تو مجلس شوری میں پیش ہوں گی۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ دعا کی تحریک کی غرض سے دوستوں کے سامنے جس حد تک ان باتوں کو ظاہر کرنا ممکن ہے، ان کو ظاہر کر دوں۔اس وقت تک اسلام کی اشاعت میں ہماری جو جد و جہد تھی، اس کی شکل حقیقی طور پر بین الاقوامی گروہوں کی بین الاقوامی کوشش کے خلاف نہیں تھی۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی کیا تو پہلے پنجاب اور پھر سارے ہندوستان نے مخالفت کی اور لوگوں نے کوشش کی کہ اس آواز کو دبا دیا جائے ، جس کو آسمانوں نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے اس دنیا میں مہدی معہود کے منہ سے بلند کر وایا تھا۔پس پہلے پنجاب میں اس آواز کو دبانے کے لئے ، غلبہ اسلام کی اس جدو جہد کے راستہ میں روکیں ڈالنے کے لئے مخالفت شروع ہوئی۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد سارے ہندوستان میں مخالفت شروع ہو گئی۔1947ء تک یہی حالت رہی۔پھر بیرون پاکستان بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فرشتوں نے کوئی ایسی تحریک کی کہ جماعت احمدیہ کی طرف اور جماعت کے اس مقصد کی طرف، جس کی خاطر مہدی معہود کی بعثت ہوئی تھی، افراد کو ، خاندانوں کو توجہ پیدا ہونی شروع ہوئی۔اور ایسی جگہوں پر بھی جہاں ہمارے علم کے مطابق نہ کوئی مبلغ پہنچا تھا اور نہ کتب پہنچی تھیں لیکن کسی ذریعہ سے احمدیت کا پیغام پہنچا تھا، وہاں اکا دکا افراد اور خاندان احمدی ہونے لگے۔گوان کی تعداد تھوڑی تھی لیکن غلبہ اسلام کی تحریک آہستہ آہستہ وسعت اختیار کرنے لگی۔گویا غلبہ اسلام کی وہ آواز ، جو قادیان سے بلند ہوئی تھی ، وہ ہندوستان سے باہر نکلی اور دنیا کے اکثر ممالک میں پھیلنے لگی۔چنانچہ جب وہاں اکا دکا لوگ احمدی ہوئے تو ان کی مخالفت بھی بڑی معمولی سی تھی۔یعنی جس ملک میں کوئی اکا دکا احمدی ہوتا ، اس ملک کی مجموعی مخالفت سامنے نہیں آتی تھی۔اللہ تعالی اشاعت اسلام کے لئے اپنی تدبیر کرتا ہے، اس لئے ایسی مخالفت کہیں بھی اور کسی شکل میں بھی کسی ملک میں پیدا نہیں ہوئی ، جو ہماری کوششوں کو کسی ایک محدود دائرے میں کلیہ نا کام بنادے۔52