تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 662
خلاصہ خطاب فرمودہ 24 جولائی 1980ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم پیار کے ساتھ ، اس حسن اور نور کے ساتھ جو قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔دوسرے مہدی کا۔جب آپ نے اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانے اور غالب کرنے کے عزم کا اعلان کیا تو کیا ہندو اور کیا مسلمان، کیا عیسائی اور کیا آریہ مت والے، سب متحد ہو کر آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔لیکن خدا نے کہا کہ میں تجھے کامیاب کروں گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دوں گا“۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اس وقت سے آج تک خدا تعالیٰ اپنی تائید و نصرت کے لاکھوں نشان دکھا چکا ہے۔اسلام رفتہ رفتہ دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس کے غلبہ کے آثار دن بدن نمایاں سے نمایاں تر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ہماری تعداد دنیا میں اب ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔یہ صحیح ہے کہ دنیا کی آبادی میں ایک کروڑ کی کوئی اہمیت نہیں۔لیکن 90 سال کے عرصہ میں اس ایک کے ایک کروڑ میں تبدیل ہونے کی اہمیت ہے۔اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اگر آئندہ 90 سال میں ہر ایک احمدی ایک کروڑ میں بدل جائے تو دنیا کی ساری آبادی کا اسلام قبول کر لینا ناممکن نہیں۔خطاب جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ وو ( مطبوعه روزنامه الفضل 18 دسمبر 1980ء) یہ ایک حقیقت ہے اور زمانہ خود اس کا شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں ہمارا قدم سرعت کے ساتھ ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے۔اور ہم درجہ بدرجہ ترقی کرتے چلے آرہے ہیں۔مثال کے طور پر حضور نے اپنے عہد کی تحریکوں میں سے فضل عمر فاؤنڈیشن ، نصرت جہاں سکیم، اور صد سالہ احمد یہ جوبلی کے منصوبوں اور ان کے تحت انجام پانے والے کارناموں اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والے انقلاب عظیم کا تفصیل سے ذکر کیا۔اور تراجم قرآن مجید کی اشاعت اور دنیا کے مختلف حصوں میں بعض نئی مساجد کی تعمیر کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔اور خدا تعالیٰ کے بارش کی طرح نازل ہونے والے فضلوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:۔خدا تعالٰی کے ان فضلوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سوچیں اور غور کریں کہ آپ کی ذمہ داریاں کس تیزی سے بڑھ رہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو اپنی توحید اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے زبردست دلائل دیئے ہیں۔ان کے نتیجہ میں صلیب ٹوٹ چکی ہے۔مسیح علیہ السلام کا طبعی موت سے وفات پانا، خود عیسائی تسلیم کر چکے ہیں۔اب صرف ایک رسم رہ گئی 662