تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 630
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1979ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کر دیں تو یہ بن جاتا ہے۔ترپن لاکھ، جو آپ نے قربانی پیش کی خدا کے حضور، اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی برکت ڈالی۔پھر جوتر پن لاکھ جمع برکت ، اس نے یہ شکل بنائی کہ کئی کروڑ روپیہ خرچ ہو گیا اور پھر بھی بچ رہا۔اور سال رواں جواب ختم ہو رہا ہے، اس میں ایک کروڑ ، انتالیس لاکھ، چوالیس ہزار ( یہ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں کتنا کمزور ہوں بیماری کی وجہ سے یہ رقم تھی پڑی ہوئی۔اس سال خرچ ہوا، ایک کروڑ ،سات لاکھ چوبیس ہزار روپیہ۔اور پھر ترپن لاکھ میں سے چھہتر لاکھ روپیہ بچی بھی گیا۔اس کے علاوہ ایک کروڑ ، پنتیس لاکھ کی عمارت وغیرہ ہیں وہاں موجود۔یعنی ترپن لاکھ میں سے سات کروڑ خرچ کرنے کے بعد دو کروڑ ، گیارہ لاکھ، پینتیس ہزار روپیہ سرمایہ کی صورت میں ، نقدی کی صورت میں یا سرمایہ عمارتوں وغیرہ کی صورت میں رہا۔یہ ہے اللہ کی برکت۔ایک بزرگ نے مجھے کہا تھا، آپ کے پاس ترین لاکھ روپیہ ہے، تجارت پر لگا دیں، جو آمد ہو، اس سے آپ اپنا منصو بہ چلائیں۔میں نے ان سے پوچھا، آپ زیادہ سے زیادہ کیا امید رکھتے ہیں، کتنی آمد ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر بہت ہی حد ہو جائے تو 14-12 فیصد نفع ہو جائے گا۔میں نے انہیں کہا، جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں، وہ تو کہتا ہے، میں بغیر حساب کے دیتا ہوں۔مجھے اس سے تجارت کرنے دیں۔دیکھا آپ نے بغیر حساب کے کس طرح مل گیا۔جو مجھے بھی حساب یاد نہیں رہ رہا۔مجلس نصرت جہاں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ان ممالک میں مغربی افریقہ کے جن کے لئے یہ منصوبہ تھا ، سترہ ہسپتال کھولے اور بہت سے سکول۔نصرت جہاں کے ہسپتالوں میں اب تک اکیس لاکھ، دو ہزار ، سات سو سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔اللہ نے بڑی توفیق دی ان کی خدمت کرنے کی۔جن میں سے ایک لاکھ، تہتر ہزار آٹھ سومریضوں کا علاج مفت کیا گیا۔کوئی ان سے پیسہ نہیں لیا گیا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے چند ایک کا منادی بن کے میں یہاں کھڑا ہوا اور میں نے بتایا اور آپ نے دیکھا دنیا کے کونے کونے میں جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش، موسلا دھار بارش سے بھی زیادہ ہو رہی ہے۔ہمارے منہ میں وہ زبان نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکیں، جو اس کا حق ہے۔اور ہمارے جو بولنے کے الفاظ ہیں، جس کو زبان کہتے ہیں، ہماری زبانیں مختلف، اردوزبان، انگریزی زبان، اس معنی میں زبان جو ہے ) اس میں وہ الفاظ نہیں، جو خدا تعالیٰ کی عظمت وجلال ووحدانیت، اس کی قدرت، اس کی محبت، اس کی رحمانیت، اس کی رحیمیت جو ہے، اس کے جلووں کو اپنے احاطہ میں لاسکیں۔خدا کی باتیں خدا ہی سمجھ سکتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ انسان، جو خدا سے 630