تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 601
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 26 اکتوبر 1979ء اس سلسلہ میں جو چیز نمایاں ہو کر میرے سامنے آئی ، وہ یہ ہے کہ جو ہماری نو جوان واقفین کی نسل ہے، ان میں بڑی بھاری اکثریت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت مخلص اور قربانی دینے والی اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو صحیح معنی میں وقف کرنے والی ہے۔اور صرف نو جوان واقفین ہی نہیں ، جماعت احمدیہ کی نوجوان نسل احمدیوں کے گھروں میں پیدا ہوئی ہے یا احمدی ہوئی ہے اور اسی طرح وہ احمدی نوجوان نسل بن گئی ، خدام الاحمدیہ بن گئے ، ان کے اندر بڑا جذ بہ پایا جاتا ہے۔اللہ تعالی سے بڑا پیار پایا جاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بڑی محبت پائی جاتی ہے۔یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنا اور مصلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو انسانی دل میں پیدا کرنا ہے تو انہیں بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی۔جس کے لئے وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تیار ہیں، پہنی طور پر بھی اور قلبی طور پر بھی۔اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ علمی طور پر بھی اس کے لئے تیار ہوں۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔لیکن دوسری طرف جو کمزور تھا، وہ زیادہ کمزور ہو گیا۔مقابلے میں آگیا نا بہت زیادہ مخلصین کے تو ہزار میں سے ایک، شاید بیس ہزار میں سے ایک، شاید ایک لاکھ میں ایک ہو۔لیکن ان کی جو شرارتیں اور ان کی نالائقیاں تھیں، اللہ تعالیٰ سے ان کی جو بے وفائیاں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی جو بے پرواہی تھی ، وہ نمایاں طور پر ہمارے سامنے آنے لگ گئی۔اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے بھی سامان پیدا کرے اور مخلصین کی اس نسل کو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی حفاظت میں رکھے اور شیطان کے ہر حملہ سے انہیں محفوظ رکھے۔تو آج میں پندرہ لاکھ کے ٹارگٹ کے ساتھ ہی تحریک جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں ، تین شکلوں میں۔دفتر اول کے چھیالیسویں سال کا، دفتر دوم کے چھتیسویں سال کا اور دفتر سوم کے پندرھویں سال کا۔جو نئے کمانے والے ہیں، جو نئے بلوغت کو پہنچنے والے ہیں، جو پہلی دفعہ اپنے دلوں میں یہ احساس محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، خواہ روپیہ دوروپے ہی کیوں نہ ہو، خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور مالی قربانیاں بھی پیش کرنی چاہئیں، وہ اس کو مضبوط کریں۔مالی جو پہلو ہے، اس کو بھی اور جو اس سے اہم دوسرے پہلو ہیں، انہیں بھی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ پر توکل اور اس سے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گی اور ان کو ادا کرنے کی اپنے رب کریم سے توفیق پائیں گی۔601